اس فتویٰ کو میں نے اپنی عربی تصنیف جائزۃ الاحوذی فی التعلیقات السلفیۃ علی سنن الترمذی میں بھی درج کیا۔ راقم السطور نے بلادِ عربیہ کا بالعموم اور سعودی عرب کا بالخصوص متعدد مرتبہ دورہ کیا ہے، کسی مقام پرنماز کے بعد اجتماعی دعا کا عمل نظر نہیں آیا۔ دراصل یہ برصغیر میں ہندوستانی اور پاکستانی بعض سلفیوں اور اکثرحنفیوں کی ایجاد ہے۔ اس کو دین کا حصہ سمجھ لیا گیا ہے۔ کیا ان ممالک میں رہائش پذیر سب جاہل اور مسئلہ ہذا سے نابلد ہیں، حقیقت ِحال اس کے برعکس ہے۔ [1] ہم سب کا فرض ہے کہ اس پر غوروفکر کریں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَالَّذِیْنَ جٰھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا} (العنکبوت:۶۹) ''اور جن لوگوں نے ہمارے لئے کوشش کی، ہم ان کو ضرور اپنے رستے دکھا دیں گے۔''
بنابریں کتاب و سنت کے سچے اور مخلص داعی کا فرض ہے کہ قائلین اور فاعلین سے اس سلسلہ میں نص صحیح وصریح کا مطالبہ کرے۔ بصورتِ دیگر ان کو اپنے غلط موقف سے رجوع پرمجبور کرے۔ والتوفیق بیداللہ دیگر ضمنی سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:
۱۔ اہلحدیث کا مسلک چونکہ کتاب و سنت ہے بسااوقات نصوص کے فہم کی بنا پر اختلاف پیدا ہوجاتا ہے، اس بنا پر یہ فعل قابل مذمت نہیں۔
۲۔ جب یہ عمل سنت ِصحیحہ سے ثابت نہیں تو بلا شبہ بدعت ہے۔ مخالفین کے دلائل کی بنا شرعی عمومات پر ہے،
اسی طرح ایک اور سائل کا جواب دیتے ہوئے حافظ صاحب رقم طراز ہیں: ''حضرت عثمان رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف فرما تھے کہ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ نے تو اس امت کو تباہی کے کنارے پر لا کھڑا کیا ہے۔ لہٰذا آپ اور دوسرے لوگ بھی آپ کے ساتھ توبہ کریں۔ علقمہ کا بیان ہے کہ آپ نے قبلہ رخ ہو کر ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: اللھم انی استغفرک و أتوب الیک اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ ہاتھ اٹھائے۔
اسی طرح موصوف اپنے ایک فتویٰ (الاعتصام،۱۲؍ جنوری ۲۰۰۱ء،ص:۱۱) میں رقم طراز ہیں کہ ''ہمارے شیوخ محدث روپڑی اور محدث گوندلوی رحمہ اللہ نماز کے بعد اجتماعی دعا کے عملًاقائل و فاعل نہ تھے، الا یہ کہ کسی کی طرف سے دعا کی درخواست ہو۔ چنانچہ مقتدیوں میں سے کسی کے تقاضے پر یا امام کی کسی ضروت اور مطالبے پر اجتماعی دعا کرنا جائز ہے جب کہ اسے نمازوں میں معمول بنا لینا خلاف سنت ہے۔'' (محدث)