فهرس الكتاب

الصفحة 700 من 883

غیر رمضان ، گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔'' [1]

لیکن یہ حصر غیر دائمی ہے، اس لیے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی کی دوسری روایت میں تیرہ رکعتوں کا تذکرہ بھی موجود ہے۔ مزید آنکہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار چار رکعتیں، ایک سلام سے پڑھتے، جیسے اس حدیث سے ظاہر ہے اور کبھی دو دو رکعتوں پر سلام پھیرتے۔ کئی ایک اہل علم کے نزدیک یہ دوسری صورت افضل ہے اور پہلی صورت جائز!۔

اسی طرح کبھی وتر کی تین رکعتیں ایک ہی سلام سے پڑھتے اور کبھی دو سلام سے۔ [2]

یعنی رمضان کے آخری عشرہ میں بنسبت پہلے دھاکوں کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبادت میں بہت زیادہ منہمک

[2] ضرت الاستاذ محدث روپڑی رحمہ اللہ اپنی کتاب'' اہلحدیث کے امتیازی مسائل'' کے صفحہ:۹۷،۹۸پر رقمطراز ہیں: ''اب ان سب کے ملانے سے یہ مسئلہ نکلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تراویح یا تہجد جو کچھ تھی یہی تھی، کیونکہ عشاء سے فجر تک ساری نماز، رمضان غیر رمضان کی یہی ہے۔ یہاں تک کہ بعض روایتوں میں فجر کی سنتیں بھی شامل کرلی ہیں۔ا گر محض تہجد بتلانی مقصود ہوتی تو فجر کی سنتوں کی ضرورت نہ تھی، ہاں شاذ و نادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی سنتوں کے بغیر بھی تیرہ پڑھی ہیں اور اخیر عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کمزوری کی وجہ سے گیارہ سے بھی کم کردی تھیں۔ مگر اکثری حالت رمضان ، غیر رمضان میں گیارہ کی تھی۔ اس لیے گیارہ ہی پر اکتفاء کیا۔ اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مجھے معلوم نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی رات صبح تک قیام کیا ہو؟ اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک ہی آیت میں صبح کردی۔'' چنانچہ یہ دونوں روایتیں مشکوٰۃ میں موجود ہیں۔ اور بعض ایسی اور بھی ہیں۔تو ان میں بھی موافقت کی یہی صورت ہے کہ شاذ و نادر ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح تک جاگے ہیں۔ ورنہ اکثری حالت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی تھی کہ کچھ سوتے اور کچھ جاگتے۔ اس قسم کے واقعات کی مثال ایسی ہے جیسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سارا شعبان روزے رکھتے تھے اور دوسری روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے آیا ہے کہ رمضان کے سوا کسی ماہ کے سارے روزے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں رکھے۔ تو علماء نے ان دونوں حدیثوں میں موافقت (یوں) کی ہے کہ شعبان کے چونکہ بہت تھوڑے دن ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) افطار کرتے تھے، اس لیے پہلی روایت میں مبالغہ کے لیے کہہ دیا کہ سارا شعبان روزے رکھتے تھے۔ ورنہ درحقیقت رمضان کے سوا کسی مہینہ کے سارے روزے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں رکھے۔ ملاحظہ ہو، ترمذی،ص:۱۳۰،بَابُ مَا جَائَ نِی وِصَالِ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ۔

پھر استاذی المکرم نے صفحہ ۱۰۴ پر لکھا ہے: ''پس ثابت ہوا کہ اصل تراویح آٹھ ہی ہیں۔ہاں اگر کوئی نوافل زیادہ پڑھنا چاہے تو اس پر کوئی انکار نہیں، بلکہ خیر قرون میں بیس سے زیادہ پڑھی گئی ہیں۔'' (رواہ احمد ومسلم)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت