فهرس الكتاب

الصفحة 833 من 883

سے چاند دیکھیں تو کیا اس حدیث پر عمل ہوسکتا ہے۔

۳۔ صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت کریب رحمہ اللہ ایک مرتبہ شام گئے جب وہ واپس مدینہ منورہ آئے تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا:تم نے چاند کب دیکھا تھا؟ اُنہوں نے کہا:ہم نے جمعہ کو دیکھا تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا:کیا تم نے بھی دیکھا تھا؟ اُنہوں نے کہا:ہاں (میں نے بھی دیکھا تھا) اور لوگوں نے بھی دیکھا تھا، تمام لوگوں نے روزہ رکھا اور (خلیفہ وقت) امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی روزہ رکھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا:لیکن ہم نے تو ہفتہ کی رات کو دیکھا تھا، لہٰذا ہم تو روزہ رکھتے رہیں گے جب تک ۳۰ دن پورے نہ کرلیں یا ہم۲۹ کو چاند نہ دیکھ لیں۔ حضرت کریب رحمہ اللہ نے کہا:کیا آپ کے لئے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی روئیت اور ان کا روزہ رکھنا کفایت نہیں کرتا؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:نہیں، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی حکم دیا ہے۔ [1]

تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے فرمان کو سامنے رکھتے ہوئے لاہور والے کراچی کی یا کراچی والے پشاور کی یعنی ملک کے دور ترین علاقے والے ایک دوسرے کی شہادت پر عید کریں یا نہ کریں؟

۴۔ احادیث میں ہے کہ دو عادل مسلمان گواہی دیں تو روزہ رکھو یا موقوف کرو۔ [2]

تو کیا کسی مشرک، بدعتی و مقلد کی گواہی پر روزہ رکھا یا موقوف کیا جاسکتا ہے۔ قرآن وحدیث سے واضح فرمائیں۔اور آپ علماے کرام سے ہی ہمیں علم ہوا کہ محدثین کرام رضی اللہ عنہم اس آدمی کی روایت اور شہادت قبول نہیں کرتے تھے جس نے زندگی میں ایک جھوٹ بھی بولا ہوتا۔

۵۔ اگر طاغوتی حاکم وقت عوام پر کوئی فیصلہ قرآن و حدیث کے خلاف پیش کرے تو اسے ماننا چاہئے یا نہیں؟ قرآن و حدیث سے واضح فرمائیں۔ ( خالد محمود سلفی،اوکاڑہ)

جواب: احادیث سے جو بات ثابت ہے وہ یہ ہے کہ اثباتِ رمضان کے لئے ایک عادل مسلمان کی شہادت کافی ہے اور خروجِ رمضان وغیرہ کے لئے دو عادل گواہوں کی گواہی ضروری ہے۔ اس سے یہ بات کھل جاتی ہے کہ چاند کو دیکھنے سے مقصود ہر ایک کا دیکھنا نہیں بلکہ شرعی طور پراس کا اثبات ہے۔ کسی اسلامی ملک میں شرعی شرائط کے ساتھ رؤیت ِہلال کا اعلان چاہے نئی ایجادات کے ذریعہ ہو، بشرطیکہ اصل رؤیت میں شبہ نہ ہو تو وہ قابل اعتماد ہے۔ جس کی سب لوگوں کو تعمیل کرنی چاہئے اور اعلان میں تاخیر ِنزاع کا باعث نہیں ہونی

[2] سنن النسائی،بَابُ قَبُولِ شَہَادَۃِ الرَّجُلِ الْوَاحِدِ عَلَی ہِلَالِ شَہْرِ رَمَضَانَ …الخ،رقم:۲۱۱۶

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت