فهرس الكتاب

الصفحة 101 من 394

'' بِمَ أَہْلَلْتَ؟''

''تم نے کس چیز کے لیے تلبیہ پکارا؟''

انہوں نے بیان کیا: ''میں نے عرض کیا:

'' لَبَّیْکَ بِإِہْلِالٍ کَإِہْلَالِ النَّبِيِّ صلي اللّٰه عليه وسلم ''

''نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کے ساتھ تلبیہ پکارتا ہوں۔''

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

'' فَقَدْ أَحْسَنْتَ۔ طُفْ بِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، وَأَحِلّ۔'' [1]

''بے شک تم نے اچھا کیا ، بیت (اللہ) کا طواف اور صفا و مرہ کی سعی کر کے احرام کھول دو۔''

ان حدیثوں کے حوالے سے تین باتیں:

۱: امام نووی تحریر کرتے ہیں: '' یہ دونوں حدیثیں معلّق احرام کے درست ہونے پر متفق ہیں۔ اور وہ یہ ہے ، کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے احرام کی مانند احرام باندھے۔ ایسا احرام (شرعًا) درست ہے اور ایسے احرام کی نوعیت مذکور شخص کے احرام والی ہو گی۔'' [2]

ب: امام بخاری نے اپنی [ صحیح] میں ایک باب کا درج ذیل عنوان لکھا ہے:

[بَابُ مَنْ أَہَلَّ فِيْ زَمَنِ النَّبِيِّ صلي اللّٰه عليه وسلم کَإہْلَالِ النَّبِيِّ صلي اللّٰه عليه وسلم ] [3]

[2] شرح النووي ۸؍۱۹۸۔

[3] صحیح البخاري ، کتاب الحج، ۳؍۴۱۶۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت