فهرس الكتاب

الصفحة 64 من 394

-ج -

عمرے سے متعلّقہ آسانیاں

۱۔ عمرے کی سارا سال اجازت ہونا:

عمرے کی آسانیوں میں سے ایک یہ ہے ، کہ اس کے ادا کرنے کے لیے کوئی مخصوص وقت متعین نہیں، بلکہ یہ سال کے سب مہینوں، دنوں اور اوقات میں جائز ہے۔اس سلسلے میں ذیل میں پانچ دلائل ملاحظہ فرمائیے:

۱: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ذوالقعدہ ۶ہجری میں عمرے کے لیے تشریف لائے۔ قریش کے روکنے اور پھر صلح حدیبیہ کے بعد عمرے کے بغیر واپس تشریف لے گئے۔

ذوالقعدہ ۷ ہجری میں مکہ مکرمہ تشریف لاکر عمرہ کیا۔

ذوالقعدہ ۸ ہجری میں فتح حُنین کے بعد جَعِرَّانَہ سے عمرے کے لیے تشریف لائے۔

پھر دس ہجری میں حجۃ الوداع کے ساتھ عمرہ کیا۔ [1]

ب: امام بخاری نے عکرمہ بن خالد سے روایت نقل کی ہے ، کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حج سے پہلے عمرہ کرنے کے متعلق سوال کیا ، تو انہوں نے جواب دیا:

''لَا بَأْسَ۔'' [کوئی حرج نہیں۔]

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت