['' میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح (اپنے سر کو ) دھوتے ہوئے دیکھا۔'']
امام بخاری نے اس حدیث پر درج ذیل عنوان لکھا ہے:
[بَابُ الْاِغْتِسَالِ لِلْمُحْرِمِ] [1]
[محرم کے غسل کرنے کے متعلق باب]
امام نووی نے صحیح مسلم کی روایت پر درج ذیل عنوان قلم بند کیا ہے:
[بَابُ جَوَازِ غُسْلِ الْمُحْرِمِ بَدَنَہُ وَرَأْٔسَہُ] [2]
[محرم کے اپنے بدن اور سر کو دھونے کے جواز کے متعلّق باب]
امام ابن حبان نے اس پر درج ذیل عنوان تحریر کیا ہے:
[ذِکْرُ الْإِبَاحَۃِ لِلْمُحْرِمِ أَنْ یَغْسِلَ رَأْسَہُ فِيْ إِحْرَامِہِ] [3]
[حالتِ احرام میں محرم کے لیے اپنا سر دھونے کے جواز کا ذکر]
مذکورہ بالا صریح اور ثابت شدہ حدیث سننے اور پڑھنے کے بعد حالتِ احرام میں غسل کو مکروہ کہنے کی کسی کے لیے بھی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
حج و عمرہ کی آسانیوں میں سے ایک یہ ہے ، کہ محرم اپنے سر میں کھجلی کر سکتا ہے۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا حدیث سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے۔
[2] صحیح مسلم ۲؍۸۶۴۔
[3] الإحسان في تقریب صحیح ابن حبان، کتاب الحج ، باب ما یباح للمحرم ومالا یباح، ۹؍۲۶۴۔