فهرس الكتاب

الصفحة 110 من 394

۱۰۔ ناگہانی حالات میں غیر مشروط احرام سے نکلنے میں آسانی:

حج اور عمرے کے احرام میں غیر مشروط طور پر داخل ہونے والے شخص کے لیے بھی ناگہانی حالات میں احرام سے نکلنے میں قرآن و سنت میں آسانی اور سہولت موجود ہے۔ ذیل میں اس بارے میں توفیقِ الٰہی سے دو دلیلیں پیش کی جارہی ہیں:

۱: ارشادِ ربانی:

{وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ} [1]

[اور حج اور عمرہ اللہ تعالیٰ کے لیے پورا کرو۔ پھر اگر روک لیے جاؤ ، تو قربانی میں سے جو میسر ہو ، کرو۔]

۲: حضرات ائمہ احمد، ابوداؤد، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ اور حاکم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن رافع سے روایت نقل کی ہے ، کہ انہوں نے بیان کیا:

''سَأَلْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ عَمْرٍو رضی اللّٰه عنہ عَنْ حَبْسِ الْمُحْرِمِ۔''

''میں نے حجاج بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روکے جانے والے محرم کے متعلق پوچھا۔''

تو انہوں نے بیان کیا: '' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

'' مَنْ کُسِرَ أَوْ مَرِضَ أَوْعَرِجَ فَقَدْ حَلَّ، وَعَلَیْہِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت