''وَأَجْمَعَتِ الْأُمَّۃُ عَلیٰ وُجُوْبِ الْحَجِّ عَلَی الْمُسْتَطِیْع فِي الْعُمُرِ مَرَّۃً وَّاحِدَۃً۔'' [1]
''امت کا اجماع ہے ، کہ صاحبِ استطاعت پر زندگی میں ایک دفعہ حج کرنا واجب ہے۔''
حج کی آسانیوں میں سے ایک یہ ہے، کہ حج کرنے والا اپنے وسائل کے بقدر پیدل یا سوار ہو کر جیسے چاہے حج کرے،اس بارے میں اس پر کوئی پابندی نہیں۔ توفیقِ الٰہی سے ذیل میں اس کے متعلق دو دلیلیں درج کی جارہی ہیں:
ا: ارشادِ ربانی ہے:
{وَاَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْکَ رِجَالًا وَّ عَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ} [2]
[اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دیجیے، وہ آپ کے پاس پیدل اور ہر لاغر سواری پر دور دراز راستے سے آئیں گے۔]
ب: امام مسلم کی حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے حوالے سے حجۃ الوداع کے متعلق روایت کردہ حدیث میں ہے:
'' فَصَلَّی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ رَکِبَ الْقَصْوَائَ ، حَتّٰی إِذَا اسْتَوَتْ بِہٖ نَاقَتُہُ عَلَی الْبَیْدَائِ ، نَظَرْتُ إِلیٰ مَدِّ بَصَرِي بَیْنَ یَدَیْہِ مِنْ رَاکِبٍ وَمَاشٍ ، وَعَنْ یَمِیْنِہِ مِثْلَ ذٰلِکَ، وَعَنْ یَسَارِہِ مِثْلَ ذٰلِکَ ، وَمِنْ خَلْفِہِ مِثْلَ ذٰلِکَ۔'' [3]
[2] سورۃ الحج؍ الآیۃ ۲۷۔
[3] صحیح مسلم، کتاب الحج، باب حجۃ النبي صلي اللّٰه عليه وسلم ، جزء من رقم الحدیث ۱۴۷۔ (۱۲۱۸) ، ۲؍۸۸۷۔