فهرس الكتاب

الصفحة 200 من 394

والا دو رکعتیں پڑھنا چاہے، وہ ادا ہوجائیں گی، اگرچہ انہیں مقام [ابراہیم علیہ السلام ] کے پیچھے پڑھنا افضل ہے۔''

ج: علامہ ابن قدامہ لکھتے ہیں:

''وَیُسْتَحَبُّ أَنْ یَرْکَعَہُمَا خَلْفَ الْمَقَامِ، وَحَیْثُ رَکَعَہُمَا جَازَ۔'' [1]

''انہیں (یعنی طواف کی دو رکعتوں کو) مقام (ابراہیم علیہ السلام ) کے پیچھے پڑھنا مستحب اور کسی بھی دوسری جگہ پڑھنا جائز ہے۔''

۱۲: دخولِ کعبہ کا واجب نہ ہونا:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبۃ اللہ میں داخل ہوئے، لیکن امت پر اسے واجب نہیں کیا، بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں سے باہر تشریف لاکر وہ بات فرمائی، جس سے اس کے واجب ہونے کی نفی ہوئی۔

حضرات ائمہ ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ، ابن خزیمہ اور حاکم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا:

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں سے شاداں و فرحاں نکلے، پھر واپس تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غمگین تھے۔ میں نے عرض کیا: ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ میرے ہاں سے ایسے ایسے (خوش و خرم) گئے تھے۔''

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت