فهرس الكتاب

الصفحة 145 من 394

۲۴۔ محرم کے لیے آبی شکار اور سمندر کے کھانے کا حلال ہونا:

احرام کے تقدس کے تقاضوں میں سے ایک یہ ہے ، کہ محرم شکار نہ کرے، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آسانی فرما دی ہے ، کہ آبی شکار اور سمندر کے کھانے کی چیزیں، جو بے شکار ہاتھ آجائیں، محرم کے لیے حلال کر دیں۔ [1] ارشادِ ربانی ہے:

{اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُہٗ مَتَاعًا لَّکُمْ وَ لِلسَّیَّارَۃِ} [2]

[تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کر دیا گیا ، تاکہ تم اور قافلے فائدہ اُٹھائیں۔]

آیت کریمہ کے حوالے سے چار باتیں:

۱: (صَیْدُ الْبَحْرِ) سے مراد صرف سمندر کا شکار نہیں، بلکہ مقصود آبی شکار ہے، خواہ وہ سمندر میں ہو یا ندی نالے وغیرہ میں۔ قاضی ابو سعود لکھتے ہیں:

'' (صَیْدُ الْبَحْرِ ) أيْ مَا یُصَادُ فِي الْمِیَاہِ کُلِّہَا بََحْرًا کَانَ أَوْ نَہْرًا أَوْ غَدِیْرًا۔'' [3]

''یعنی جس کا شکار تمام پانیوں سے کیا جائے، خواہ وہ سمندر ہو یا نہر یا تالاب۔''

علامہ شوکانی تحریر کرتے ہیں:

''وَالْمُرَادُ بِالْبَحْرِ ہُنَا کُلُّ مَائٍ یُوْجَدُ فِیْہِ صَیْدٌ بَحْرِيٌّ ، وَإِنْ کَانَ نَہْرًا أَوْ غَدِیْرًا۔'' [4]

[2] سورۃ المآئدۃ؍ جزء من الآیۃ ۹۶۔

[3] تفسیر أبي السعود ۳؍۸۱۔

[4] فتح القدیر ۲؍۱۱۴۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت