فهرس الكتاب

الصفحة 133 من 394

آنے کے بارے میں اختلاف ہے۔ [1]

علامہ قرطبی لکھتے ہیں ، کہ خاتون پر زینت کی غرض سے سرمہ استعمال کرنے پر فدیہ ہو گا۔ [2]

گفتگو کا خلاصہ یہ ہے ، کہ حج و عمرہ کی ایک آسانی یہ ہے ، کہ محرم آنکھوں کے دکھنے پر خالی از خوشبو علاج کر سکتا ہے ، وہ خواہ ایلوے کا لیپ ہو یا کوئی سرمہ۔ وہ بوقتِ ضرورت خوشبو پر مشتمل علاج بھی کر سکتا ہے ، لیکن ایسی صورت میں فدیہ دینا ہو گا، البتہ زینت کے لیے سرمے وغیرہ کا استعمال ناپسندیدہ ہے ، زینت حاصل کرنے کی جستجو حالتِ احرام سے مناسبت نہیں رکھتی۔

۲۰۔ حالتِ احرام میں پچھنا لگوانا:

حج و عمرہ کی آسانیوں میں سے ایک احرام کی حالت میں پچھنا لگوانے کا جواز ہے۔ ذیل میں اس بارے میں دو حدیثیں ملاحظہ فرمائیے:

۱: امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے:

'' أَنَّ النَّبِیَّ صلي اللّٰه عليه وسلم احْتَجَمَ وَہُوَ مُحْرِمٌ۔'' [3]

''بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالتِ احرام میں پچھنا لگوایا۔''

ب: امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابن بُجینہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے:

'' أَنَّ النَّبِيَّ صلي اللّٰه عليه وسلم احْتَجَمَ بِطَرِیْقِ مَکَّۃَ ، وَہُوَ مُحْرِمٌ ، وَسَطَ

[2] ملاحظہ ہو: المفہم ۳؍۲۹۰۔

[3] متفق علیہ: صحیح البخاري ، کتاب جزاء الصید ، باب حجامۃ المحرم ، رقم الحدیث ۱۸۳۵، ۴؍۵۰ ؛ وصحیح مسلم، کتاب الحج ، باب جواز الحجامۃ للمحرم، رقم الحدیث ۸۷۔ (۱۲۰۲) ، ۲؍۸۶۲۔ الفاظِ حدیث صحیح مسلم کے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت