امام شافعی کی رائے زیادہ درست معلوم ہوتی ہے، کیونکہ غروب آفتاب سے پہلے اپنی جائے قیام سے روانہ ہونے والے شخص نے دو دنوں میں جلدی کرنے کی بات اپنی طرف سے تو کردی۔
علاوہ ازیں اب تو بسااوقات ٹریفک جام ہونے کی بنا پر غروبِ آفتاب سے گھنٹوں پہلے اپنی جائے قیام چھوڑنے والا شخص بھی سورج ڈوبنے تک حدودِ منیٰ سے نکل نہیں پاتا۔ واللہ تعالیٰ أعلم۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے حجاج کے لیے عطا کردہ آسانیوں میں سے ایک یہ ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں شخصی عمارت تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی۔
حضرات ائمہ احمد، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ، دارمی، ابویعلی اور حاکم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا:
''میں نے عرض کیا:
''یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَلَا نَبْنِيْ لَکَ بِمِنٰی بَیْتًا أَوْ بِنَائً یُظِلُّکَ مِنَ الشَّمْسِ؟''
''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم [1] آپ کے لیے منیٰ میں ایک گھر یا عمارت نہ بنا دیں، (جو کہ) آپ کو سورج سے سائے میں رکھے۔''
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''لَا، إِنَّمَا ہُوَ مُنَاخُ مَنْ سَبَق إِلَیْہِ۔'' [2]
[2] المسند، رقم الحدیث ۲۵۵۴۱، ۴۲/۳۴۹؛ وسنن أبي داود، کتاب المناسک، باب تحریم مکۃ، رقم الحدیث ۲۰۱۷، ۵/۳۴۸؛ وجامع الترمذي، أبواب الحج، باب ما جاء أن منی مناخ من سبق رقم الحدیث ۸۸۲، ۳/۵۲۹؛ وسنن ابن ماجہ، کتاب المناسک، باب النزول بمنی، رقم الحدیث ۳۰۰۶، ۹/۹؛ وسنن الدارمي، کتاب المناسک، باب کراھیۃ البنیان بمنی ۲/۷۳؛ ومسند أبي یعلی، رقم الحدیث ۱۶۳، ۴۵۱۴، ۸/۱۶؛ والمستدرک علی الصحیحین، کتاب المناسک، ۱/۴۶۷۔ امام ترمذی نے اسے [حسن ] ، امام حاکم نے [مسلم کی شرط پر صحیح] قرار دیا ہے اور حافظ ذہبی نے ان کے ساتھ موافقت کی ہے۔ (ملاحظہ ہو: جامع الترمذي۳/۵۲۹ ؛ والمستدرک ۱/۴۶۷، والتلخیص ۱/۴۶۷) ۔ بعض محدثین کرام جیسے ابن القطان، البانی، ارناؤط اور ان کے رفقاء نے اسے [ضعیف] کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: شرح ابن القیم تہذیب سنن أبي داود ۵/۳۴۹؛ وضعیف سنن ابن ماجہ ص۲۳۸؛ وہامش المسند ۴۲/۳۴۹) ؛ لیکن امام ابن قیم لکھتے ہیں: ''وَالصَّوَابُ تَحْسِیْنُ الْحَدِیْثِ۔'' [درست بات اس حدیث کو [حسن] قرار دینا ہے] (شرح ابن القیم ۵/۳۴۹) ۔