فهرس الكتاب

الصفحة 296 من 394

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہی فتویٰ دیا کرتے تھے۔ امام مالک نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے، کہ وہ فرمایا کرتے تھے:

''مَنْ غَرَبَتْ لَہُ الشَّمْسُ مِنْ أَوْسَطِ أَیَّامِ التَّشْرِیْقِ، وَہُوَ بِمِنَی، فَلَا یَنْفِرَنَّ حَتَّی یَرْمِيَ الْجَمَارَ مِنَ الْغَدِ۔'' [1]

''جس شخص کی منیٰ میں موجودگی ہی میں ایام تشریق کے درمیانی دن [2] کا سورج غروب ہوگیا، تو وہ اگلے دن [3] جمرات کو کنکریاں مارے بغیر نہ جائے۔''

شیخ الاسلام ابن تیمیہ اس بارے میں لکھتے ہیں:

''پس اگر منیٰ میں اس کی موجودگی کے دوران ہی (بارہ ذوالحجہ کا) سورج غروب ہوجائے، تو وہ (منیٰ ہی میں) رکے، یہاں تک کہ وہ تیسرے روز [4] لوگوں کے ساتھ رمی کرے۔'' [5]

و: دوسرے دن منیٰ سے نکلنے کا ارادہ کرنے والا اگر غروبِ آفتاب سے پہلے منیٰ میں اپنی جائے قیام سے روانہ ہوگیا، لیکن اس کے حدودِ منیٰ سے نکلنے سے پیشتر ہی سورج غروب ہوگیا، تو امام شافعی اور ان کے اصحاب کی رائے میں اس پر تیسری رات کے قیام اور تیسرے دن کی رمی کے لیے رکنا لازم نہ ہوگا۔ [6]

علامہ ابن قدامہ کی رائے میں اس کا منیٰ سے نکلنا جائز نہ ہوگا۔ [7]

[2] یعنی ۱۲ ذوالحجہ کا۔

[3] یعنی ۱۳ ذوالحجہ کو۔

[4] ایام تشریق کے تیسرے دن یعنی ۱۳ ذوالحجہ کو۔

[5] أحکام مناسک الحج والعمرۃ، ص ۱۸۷۔

[6] ملاحظہ ہو: کتاب المجموع ۸/۱۸۳۔

[7] ملاحظہ ہو: المغني ۵/۳۳۲۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت