فهرس الكتاب

الصفحة 295 من 394

پر رد کیا گیا ہے، جن میں سے کچھ لوگ جلدی کرنے والوں کو اور بعض لوگ تاخیر کرنے والوں کو گناہ گار ٹھہراتے تھے۔ [1]

ب: تیسرے دن کے لیے رکنا اور رمی کرنا افضل ہے، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تیسرے دن رمی کرکے منیٰ سے روانہ ہوئے تھے۔ [2]

ج: امامِ حج کو چاہیے، کہ وہ دوسرے دن کی بجائے تیسرے دن نکلے، جیسے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تیسرے دن نکلے، لیکن اس کا دوسرے دن منیٰ سے چلے آنا بھی جائز ہے اور اس سے کوئی دم لازم نہیں آئے گا۔ واللہ تعالیٰ أعلم۔ [3]

د: دوسرے دن منیٰ سے روانہ ہونے والا شخص تیسرے دن کی کنکریاں نہ تو خود دوسرے دن مارے اور نہ ہی کسی اور کو تیسرے روز کی کنکریاں مارنے کے لیے اپنا نائب مقرر کرے، کیونکہ دوسرے دن روانگی سے تیسری رات کا قیام اور تیسرے دن کی رمی اس سے ساقط ہوجاتی ہے۔ [4]

ہ: منیٰ سے دوسرے دن نکلنے کا ارادہ رکھنے والا شخص اس دن کے غروب آفتاب سے پہلے روانہ ہوجائے۔ اگر وہ غروب آفتاب تک روانہ نہ ہوا، تو اسے تیسری رات منیٰ ہی ٹھہرنا ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ } [پس جس نے دو دن میں جلدی کی، تو اس پر گناہ نہیں] اور جس کو منیٰ میں رات ہوگئی، تو وہ جلدی جانے والوں میں سے نہیں۔ [5]

[2] ملاحظہ ہو: کتاب المجموع ۸/۱۸۲؛ ومناسک الحج والعمرۃ للشیخ الألباني ص۳۸۔

[3] ملاحظہ ہو: کتاب المجموع ۸/۱۸۲۔۱۸۳؛ نیز ملاحظہ ہو: أحکام مناسک الحج والعمرۃ لشیخ الإسلام ص۱۸۷۔

[4] ملاحظہ ہو: کتاب المجموع ۸/۱۸۳۔

[5] ملاحظہ ہو: المغني ۵/۳۳۶۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت