فهرس الكتاب

الصفحة 294 من 394

تو بھی اس پر کوئی گناہ نہیں۔'' [1]

ب: امام ابوداؤد اور امام ابن ماجہ نے حضرت عبد الرحمن بن یعلی الدیلی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا، تو اس نے اعلان کیا:

''أَیَّامُ مِنَی ثَلَاثَۃٌ، فَمَنْ تَعَجَّلَ فِيْ یَوْمَیْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَیْہِ، وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَیْہِ۔'' [2]

''منیٰ کے دن تین ہیں، پس جس نے دو دن (رہنے کے بعد جانے) میں جلدی کی، تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو ٹھہر کر جائے، اس پر بھی گناہ نہیں۔''

ان دلیلوں کے حوالے سے چھ باتیں:

ا: علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں، کہ (فَـلَا إِثْمَ عَلَیْہِ) میں اس بات کی طرف اشارہ ہے، کہ جلدی کرتے وقت دوسرے دن اور تاخیر کرتے ہوئے تیسرے دن جانا، دونوں ہی جائز ہیں۔ [3]

قاضی ابوسعود رقم طراز ہیں: مراد یہ ہے، کہ جلدی جانے اور تاخیر کرنے میں (حج کرنے والے کو) اختیار ہے۔ [4]

قاضی رحمہ اللہ مزید لکھتے ہیں، کہ صراحت کے ساتھ [گناہ کی نفی] سے اہلِ جاہلیت

[2] سنن أبي داود، کتاب المناسک، باب من لم یدرک عرفۃ، جزء من رقم الحدیث ۱۹۴۷، ۵/۲۹۶۔۲۹۷؛ وسنن ابن ماجہ، کتاب المناسک، باب من أتی عرفۃ قبل الفجر لیلۃ جمع، جزء من رقم الحدیث ۲۰۱۵، ۹/۲۸۔۳۰۔ (المطبوع مع إنجاز الحاجۃ) ۔ شیخ البانی نے اسے [صحیح] کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن أبي داود ۱/۳۶۷۔ متعدد دیگر ائمہ نے بھی اسے روایت کیا ہے۔(ملاحظہ ہو: إنجاز الحاجۃ ۹/۳۷۔۳۸) ۔

[3] منقول از: تفسیر القاسمي ۳/۱۶۷۔

[4] تفسیر أبي السعود ۱/۲۱۰۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت