فهرس الكتاب

الصفحة 233 من 394

الْوُقُوْفَ۔''

''اگر آج سنت کو پانا چاہتے ہو، تو خطبہ مختصر پڑھو اور وقوف میں جلدی کرو۔''

ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ''صَدَقَ۔'' [1]

''اس نے درست بیان کیا ہے۔''

امام بخاری نے اس پر درج ذیل عنوان تحریر کیا ہے:

[بَابُ قِصَرِ الْخُطْبَۃِ بِعَرَفَۃَ] [2]

[عرفات میں خطبہ مختصر دینے کے متعلق باب]

۶: عرفات میں ظہر و عصر کو جمع و قصر کرنا:

حج کی سہولتوں میں سے ایک یہ ہے، کہ عرفات میں ظہر اور عصر دونوں نمازیں ظہر کے وقت میں قصر [3] کرکے پڑھی جاتی ہیں۔ اس بارے میں دو حدیثیں ملاحظہ فرمائیے:

۱: امام مسلم کی حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حجۃ الوداع کے متعلق روایت کردہ حدیث میں ہے:

''فَأَتَی بَطْنَ الْوَادِي، فَخَطَبَ النَّاسَ…ثُمَّ أَذَّنَ، ثُمَّ أَقَامَ، فَصَلَّی الظُّہْرَ، ثُمَّ أَقَامَ، فَصَلَّی الْعَصْرَ، وَلَمْ یُصَلِّ بَیْنَہُمَا

[2] المرجع السابق ۳/۵۱۴۔ امام نسائی نے بھی اس حدیث پر یہی عنوان قلم بند کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: سنن النسائي، کتاب مناسک الحج، ۵/۲۵۴) ۔

[3] ظہر اور عصر دونوں کی صرف دو دو رکعتیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت