الْوُقُوْفَ۔''
''اگر آج سنت کو پانا چاہتے ہو، تو خطبہ مختصر پڑھو اور وقوف میں جلدی کرو۔''
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ''صَدَقَ۔'' [1]
''اس نے درست بیان کیا ہے۔''
امام بخاری نے اس پر درج ذیل عنوان تحریر کیا ہے:
[بَابُ قِصَرِ الْخُطْبَۃِ بِعَرَفَۃَ] [2]
[عرفات میں خطبہ مختصر دینے کے متعلق باب]
حج کی سہولتوں میں سے ایک یہ ہے، کہ عرفات میں ظہر اور عصر دونوں نمازیں ظہر کے وقت میں قصر [3] کرکے پڑھی جاتی ہیں۔ اس بارے میں دو حدیثیں ملاحظہ فرمائیے:
۱: امام مسلم کی حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حجۃ الوداع کے متعلق روایت کردہ حدیث میں ہے:
''فَأَتَی بَطْنَ الْوَادِي، فَخَطَبَ النَّاسَ…ثُمَّ أَذَّنَ، ثُمَّ أَقَامَ، فَصَلَّی الظُّہْرَ، ثُمَّ أَقَامَ، فَصَلَّی الْعَصْرَ، وَلَمْ یُصَلِّ بَیْنَہُمَا
[2] المرجع السابق ۳/۵۱۴۔ امام نسائی نے بھی اس حدیث پر یہی عنوان قلم بند کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: سنن النسائي، کتاب مناسک الحج، ۵/۲۵۴) ۔
[3] ظہر اور عصر دونوں کی صرف دو دو رکعتیں۔