فهرس الكتاب

الصفحة 274 من 394

کرتے ہیں۔''

د: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو عذر کی بنا پر دو دنوں کی رمی ایک دن میں کرنے کی اجازت دی۔ امام ابن ماجہ نے حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کی حدیث پر درج ذیل عنوان تحریر کیا ہے:

[بَابُ تَأْخِیْرِ رَمْيِ الْجَمَارِ مِنْ عُذْرٍ] [1]

[عذر کی بنا پر جمرات کی رمی میں تاخیر کرنے کے متعلق باب]

یہ رعایت دیگر حقیقی عذر والے لوگوں کے لیے بھی ہوگی۔ واللہ تعالیٰ أعلم۔

شیخ البانی لکھتے ہیں:

عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کی حدیث کی وجہ سے عذر والے کے لیے دو دن کی رمی ایک دن میں جمع کرلینا جائز ہے۔ [2]

۶: بچے اور معذور کی طرف سے رمی کرنا:

حج کی آسانیوں میں سے ایک یہ ہے، کہ استطاعت نہ رکھنے والے بچوں اور دیگر معذور افراد کی طرف سے رمی کی جاسکتی ہے۔ اس بارے میں ذیل میں توفیقِ الٰہی سے قدرے تفصیل سے گفتگو پیش کی جارہی ہے:

ا: بچوں کی طرف سے رمی:

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے بچوں کے ہمراہ حج کیا کرتے تھے۔ اُن میں رمی کی استطاعت رکھنے والے بچے خود رمی کرتے اور دیگر بچوں کی طرف سے رمی کی جاتی۔ [3]

[2] ملاحظہ ہو: مناسک الحج والعمرۃ ص ۳۸۔

[3] ملاحظہ ہو: المغني ۵/۵۲؛ وتفسیر القرطبي ۳/۱۲؛ وموسوعۃ فقہ عبد اللّٰه بن عمر رضی اللّٰه عنہما ص ۲۷۱۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت