فهرس الكتاب

الصفحة 314 من 394

{وَ الْبُدْنَ [1] جَعَلْنٰہَا لَکُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ} [2]

[اور ہم نے قربانی کے بڑے جانور تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کی بڑی نشانیوں میں سے مقرر کیے ہیں۔]

اللہ تعالیٰ نے اس میں نر کا ذکر کیا ہے اور نہ ہی مادہ کا، بلکہ مطلق ذکر فرمایا، جس میں دونوں شامل ہیں۔

علاوہ ازیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوجہل کے اونٹ کی قربانی کرنا ثابت ہے۔ [3]

۹: اونٹ اور گائے کی قربانی میں شرکت:

قربانی کے حوالے سے حج کی آسانیوں میں سے ایک یہ ہے، کہ اونٹ اور گائے میں سے ہر ایک کی قربانی میں سات افراد شریک ہوسکتے ہیں۔ اس بارے میں ذیل میں دو حدیثیں ملاحظہ فرمائیے:

ا: امام مسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا:

''خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم مُہِلِّیْنَ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم أَنْ نَشْتَرِکَ فِيْ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ، کُلُّ سَبْعَۃٍ مِنَّا فِيْ بُدْنَۃٍ۔'' [4]

''ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کے لیے لبیک پکارتے ہوئے نکلے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا، کہ اونٹ اور گائے میں ہم میں سے

[2] سورۃ الحج / جزء من الآیۃ ۳۶۔

[3] ملاحظہ ہو: المغني ۴/۴۵۷؛ نیز ملاحظہ ہو: معالم السنن ۲/۱۵۲؛ ومناسک الحج والعمرۃ للنووي ص ۳۲۷، وإنجاز الحاجۃ ۹/۲۸۳۔۲۸۴۔

[4] صحیح مسلم، کتاب الحج، رقم الحدیث ۳۵۱۔ (۱۳۱۸) ، ۲/۹۵۵۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت