امام ابن منذر لکھتے ہیں:
''کُلُّ مَنْ حَفِظْتُ عَنْہُ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ یَرَی الرَّمْي عَنِ الصَّبِيِّ الَّذِيْ لَا یَقْدِرُ عَلَی الرَّمْيِ۔'' [1]
''وہ تمام اہل علم، جن سے میں نے علم حاصل کیا، رمی کی استطاعت نہ رکھنے والے بچے کی طرف سے رمی کرنے کے قائل تھے۔''
حضرات ائمہ عطاء، زہری، مالک، شافعی اور اسحاق سب کی یہی رائے ہے۔ [2]
ب: معذور افراد کی طرف سے رمی:
علامہ ابن قدامہ تحریر کرتے ہیں:
''إِذَا کَانَ الرَّجُلُ مَرِیْضًا أَوْ مَحْبُوْسًا أَوْ لَہُ عُذْر جَازَ أَنْ یَسْتَنِیْبَ مَنْ یَرْمِيْ عَنْہُ۔'' [3]
''جب آدمی بیمار ہویا قید کیا گیا ہو یا اس کے لیے کوئی اور عذر ہو، تو اس کے لیے رمی کرنے کی خاطر نائب مقرر کرنا جائز ہے۔''
شیخ ابن باز رقم طراز ہیں:
''رمی کی استطاعت نہ رکھنے والے شخص کی طرف سے جمرات کو کنکریاں
[2] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۵/۵۲۔ اس بارے میں امام ابن ماجہ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: ''ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا اور ہمارے ساتھ عورتیں اور بچے تھے اور ہم نے بچوں کی طرف سے لبیک پکارا اور ان کی طرف سے رمی کی۔'' (ملاحظہ ہو: سنن ابن ماجہ، کتاب المناسک، باب الرمي عن الصبیان، رقم الحدیث ۳۰۳۸، ۹/۷۷(المطبوع مع إنجاز الحاجۃ) ؛ لیکن یہ حدیث ضعیف ہے۔ (ملاحظہ ہو: ضعیف سنن ابن ماجہ ص ۲۴۰؛ وإنجاز الحاجۃ ۹/۷۷۔۷۸، وہامش سنن ابن ماجہ للدکتور بشار ۴/۴۹۱) ۔
[3] المغني ۵/۳۷۹؛ نیز ملاحظہ ہو: بدائع الصنائع ۳/۱۳۷؛ والمجموع ۸/۱۷۵۔