فهرس الكتاب

الصفحة 128 من 394

پر صلح کی: '' مکہ میں ہتھیار نیام میں ڈال کر ہی داخل ہوں گے۔''

اس حدیث کے حوالے سے تین باتیں:

۱: امام بخاری نے اس پر درج ذیل عنوان تحریر کیا ہے:

[بَابُ لُبْسِ السِّلَاحِ لِلْمُحْرِمِ] [1]

[محرم کے ہتھیار بند ہونے کے متعلق باب]

ب:علامہ ابن قدامہ تحریر کرتے ہیں:

'' إِنَّ الْمُحْرِمَ إِذَا اِحْتَاجَ إِلیٰ تَقَلُّدِ السَّیْفِ فَلَہُ ذٰلِکَ۔ وَأَبَاحَ عَطَائٌ وَالشَّافِعِيُّ وَابْنُ الْمُنْذِرِ تَقَلُّدَہُ۔'' [2]

''محرم کو جب تلوار گلے میں لٹکانے کی ضرورت ہو، تو وہ ایسے کر سکتا ہے۔ مالک نے بھی ایسے ہی کہا ہے۔ عطاء ، شافعی اور ابن منذر نے (تلوار) گلے میں لٹکانے کو جائز قرار دیا ہے۔''

ج: صحیح مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت ہے ، کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

''تم میں سے کسی ایک کے لیے مکہ میں ہتھیار اُٹھانا جائز نہیں۔'' [3]

امام نووی لکھتے ہیں: ''یہ ممانعت حاجت نہ ہونے کی صورت میں ہے۔ اگر (حاجت) ہو ، تو (ہتھیار اُٹھانا) جائز ہے۔ یہ ہمارا اور جمہور کا مذہب ہے۔'' [4]

[2] ملاحظہ ہو: المغني ۵؍۱۲۸۔

[3] صحیح مسلم، کتاب الحج، باب النہي عن حمل السلاح بمکۃ بلا حاجۃ ، رقم الحدیث ۴۴۹۔ (۱۳۵۶) ، ۲؍۹۸۹۔

[4] شرح النووي ۹؍۱۳۰۔۱۳۱۔ قاضی عیاض نے بھی یہی بات بیان کی ہے ، (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۹؍۱۳۱) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت