فهرس الكتاب

الصفحة 142 من 394

ہ: (اَلْکَلْبُ الْعَقُوْرُ) [باؤلا کتا] سے مراد کے متعلق علماء میں اختلاف ہے۔

ایک قول کے مطابق اس سے مراد باؤلا کتا ہی ہے ، البتہ بھیڑیا اسی حکم میں شریک ہے۔ [1]

دوسرا قول یہ ہے ، کہ لوگوں پر حملہ آور ہونے، انہیں ڈرانے اور کاٹنے والا ہر جانور اس میں شامل ہے۔ یہ رائے امام مالک اور جمہور علماء کی ہے۔ [2]

و: پہلی حدیث میں ہے:

''خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلیٰ مَنْ قَتَلَہُنَّ فِی الْحَرَمِ وَالإِحْرَامِ۔''

[حرم اور حالتِ احرام میں ہونے کے باوجود پانچ جانوروں کے قتل کرنے والے پر گناہ نہیں]

دوسری روایت میں ہے:

قَالَ: ''وَفِي الصَّلَاۃِ أَیْضًا۔'' آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: '' اور نماز میں بھی۔''

اس سے مقصود یہ تنبیہ کرنا ہے ، کہ ان جانوروں کے تمام جگہوں اور حالات میں قتل کی اجازت ہے۔ [3]

بعض روایات میں ہے:

'' یُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ۔'' [4]

''انہیں حل و حرم میں قتل کیا جائے گا۔''

اور مراد یہ ہے ، کہ یہ جانور ہر جگہ قتل کیے جائیں گے۔

ز: دوسری حدیث میں ہے:

[2] ملاحظہ ہو: المفہم ۳؍۲۸۵؛ و شرح النووي ۸؍۱۱۴؛ و فتح الباري ۴؍۳۹۔

[3] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۴؍۳۵۔

[4] ملاحظہ ہو: صحیح مسلم، کتاب الحج ، جزء من رقم الحدیث ۶۶۔ (۱۱۹۸) ، ۲؍۸۵۶۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت