فهرس الكتاب

الصفحة 151 من 394

کرتے ہیں ، کہ حلال شخص کے شکار کردہ جانور کا گوشت محرم کے لیے ہر حال میں تناول کرنا جائز ہے۔ ] [1]

د: صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے ، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صعب ابن جثامہ رضی اللہ عنہ کے شکار کردہ گورخر کا ہدیہ محرم ہونے کی بنا پر واپس کر دیا۔ [2]

بعض حضرات نے اس حدیث کی وجہ سے ہر حالت میں محرم کے لیے شکار کے گوشت کو حرام قرار دیا ہے، لیکن یہ موقف بھی محلِ نظر ہے ، کیونکہ دیگر احادیث میں بیان کردہ تفصیل کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے ، اسی لیے امام ابن خزیمہ نے اس پر حسب ذیل عنوان تحریر کیا ہے:

[نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیش کردہ شکار کا گوشت ردّ کرنے کے متعلق حدیث کے مجمل اور غیرِ مفسر ہونے کے بارے میں باب]

اس علم میں مہارت نہ رکھنے اور مجمل و مفسر احادیث میں تمیز نہ کرنے والے بعض لوگ سمجھتے ہیں، کہ محرم پر ہر حالت میں شکار کا گوشت حرام ہے ، اگرچہ اس کا شکار حلال شخص نے کیا ہو] [3]

ہ: امام ابن خزیمہ نے دوسری حدیث جسے حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے، پر حسبِ ذیل عنوان قلم بند کیا ہے:

[سابقہ دو ابواب میں ہماری ذکر کردہ احادیث کی تفسیر، بیان کرنے والی حدیث کے ذکر کے متعلق باب۔]

[2] ملاحظہ ہو: صحیح البخاري، کتاب جزاء الصید، باب إذا اھْدي للمحرم…، رقم الحدیث ۱۸۲۵، ۴/۳۱؛ وصحیح مسلم، کتاب الحج، باب تحریم الصید للمحرم، رقم الحدیث ۵۰۔ (۱۱۹۳) ، ۲/۸۵۰۔

[3] المرجع السابق ، رقم الباب ۵۶۳، ۴,۱۷۸۔۱۷۹۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت