فهرس الكتاب

الصفحة 154 من 394

۲: دوسری آسانی یہ ہے ، کہ مخطیء اور ناسی (غلطی اور بھول کر) شکار کرنے پر محرم پر کوئی قربانی ، کفارہ یا روزے نہیں، کیونکہ ان میں سے کسی ایک کے واجب ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ نے [عمدًا] کی شرط لگائی ہے۔ [1]

۳: تیسری آسانی یہ ہے ، کہ اس غلطی کرنے والے کو اختیار دیا گیا ہے ، کہ وہ تینوں کاموں میں سے جو چاہے ، کرے اس کے مال دار یا تنگ دست ہونے یا قوی یا بیمار ہونے سے اس رعایت پر کوئی اثر نہ ہو گا۔ [2]

[2] جمہور علمائے اُمت کی یہی رائے ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی گئی ہے ، کہ وہ قتل کیے جانے والے شکار کے مثل قربانی دے، اگر ایسا نہ کر سکے ، تو مسکینوں کو کھانا کھلائے اور اگر اس کے لیے یہ بھی ممکن نہ ہو ، تو روزے رکھے۔

علامہ قرطبی لکھتے ہیں، کہ اس قول پر یہ اعتراض کیا گیا ہے ، کہ یہ آیت کے ظاہری معنی کے مطابق نہیں۔ (ملاحظہ ہو: تفسیر القرطبي ۶؍۳۱۵) حافظ ابن جوزی تحریر کرتے ہیں ، کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دونوں اقوال نقل کیے گئے ہیں۔ جمہور فقہاء پہلی رائے کے قائل ہیں۔ (ملاحظہ ہو: زاد المسیر ۲؍۴۲۶) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت