فهرس الكتاب

الصفحة 163 من 394

میں، (غرضیکہ) جب بھی وہ چاہے، اس گھر کے طواف اور (اس میں) نماز سے نہ روکنا۔''

حدیث کے متعلق دو باتیں:

ا: بعض حضرات محدثین کے اس پر تحریر کردہ عنوانات درج ذیل ہیں:

ا: امام ابوداؤد نے قلم بند کیا ہے:

[بَابُ الطَّوَافِ بَعْدَ الْعَصْرِ] [1]

[عصر کے بعد طواف کے متعلق باب]

ب: امام ترمذی نے لکھا ہے:

[بَابُ مَا جَائَ فِيْ الصَّلَاۃِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي الطَّوَافِ لِمَنْ یَطُوْفُ] [2]

[طواف کرنے والے کے لیے عصر کے بعد اور مغرب کے بعد نماز طواف[3] کے متعلق جو کچھ وارد ہوا ہے، اس بارے میں باب]

امام نسائی کے رقم کردہ دو عنوان یہ ہیں:

[مکہ میں سب اوقات میں نماز (ادا کرنے) کا جواز]

[تمام اوقات میں طواف کا جواز]

[2] جامع الترمذي ۳/۵۱۴۔

[3] یعنی طواف کی دو رکعتوں کی ادائیگی کے متعلق۔

[4] سنن النسائی ۱/۲۸۴۔

[5] المرجع السابق ۵/۲۲۳۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت