فهرس الكتاب

الصفحة 166 من 394

''بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت (اللہ) کا طواف اونٹ پر سوار ہوکر کیا، جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکن (حجر اسود) کے نزدیک آتے، تو اپنے ہاتھ میں موجود چیز (چھڑی) سے اس کی طرف اشارہ کرتے اور (اللہ اکبر) کہتے۔''

ب: امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا:

''شَکَوْتُ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم أَنِّي أَشْتَکِيْ، فَقَالَ: ''طُوْفِیْ مِنْ وَرَائِ النَّاسِ، وَأَنْتِ رَاکِِبَۃٌ۔''

''میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو اپنی بیماری کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: '' [سواری پر] سوار ہو کرلوگوں کے پیچھے سے طواف کرو۔''

''فَطُفْتُ، وَرَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم یُصَلِّي إِلٰی جَنْبِ الْبَیْتِ، وَہُوَ یَقْرَأُ بِالطُّوْرِ وَکِتَابٍ مَسْطُوْرٍ۔'' [1]

''پس میں نے (سوار ہوکر) طواف کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے اور (نماز میں) بِ (الطُّوْرِ وَکِتَابٍ مَسْطُوْرٍ) کی قرأت کر رہے تھے۔''

دونوں حدیثوں کے حوالے سے چار باتیں:

ا: پہلی حدیث میں یہ بات واضح ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سوار ہوکر طواف کیا۔ سوار ہونے کے اسباب کا ذکر درج ذیل میں دو روایتوں میں بیان کیا گیا ہے:

۱: امام مسلم نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ وہ بیان

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت