فهرس الكتاب

الصفحة 175 من 394

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا:

''کَیْفَ صَنَعْتَ فِيْ اِسْتِلَامِ الْحَجَر؟''

''تم نے حجر (اسود) کے چھونے کے بارے میں کیسے کیا؟''

میں نے عرض کیا:

''اِسْتَلَمْتُ وَتَرَکْتُ۔''

''میں نے (کبھی) چھولیا اور (کبھی چھونا) ترک کیا۔''

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''أَصَبْتَ۔'' [1]

''تم نے ٹھیک کیا۔''

امام ابن حبان اس پر درجِ ذیل عنوان تحریر کیا ہے:

[ذِکْرُ الْإِبَاحَۃِ لِلطَّائِفِ حَوْلَ الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ اسْتِلَامَ الْحَجَرِ وَتَرْکَہُ مَعًا] [2]

[بیت عتیق کے گرد طواف کرنے والے کے لیے ایک ہی وقت میں حجر (اسود) کو چھونے اور نہ چھونے کے جواز کا ذکر]

مذکورہ بالا روایات سے حجرِ اسود کے متعلق درج ذیل سات باتیں معلوم ہوتی ہیں:

ا: اس پر سجدہ کرنا اور اسے بوسہ دینا۔

ب: اسے ہاتھ سے چھونا اور بوسہ دینا۔

[2] الإحسان في تقریب صحیح ابن حبان ۹/۱۳۱۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت