فهرس الكتاب

الصفحة 177 من 394

دو یمانی رکنوں سے مراد حجرِ اسود اور رکنِ یمانی ہیں۔ [1]

ب: امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا:

''مَا تَرَکْتُ اِسْتِلَامَ ہٰذَیْنِ الرُّکْنَیْنِ فِيْ شِدَّۃٍ وَ لَا رَخَائٍ مُنْذُ رَأَیْتُ النَّبِيَّ صلي اللّٰه عليه وسلم یَسْتَلِمُہُمَا۔'' [2]

''جب سے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں رکنوں [3] کو چھوتے ہوئے دیکھا ہے، میں نے سختی اور نرمی میں ان کا چھونا نہیں چھوڑا۔''

ج: امام مسلم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ وہ بیان کرتے ہیں:

''لَمْ أَرَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم یَسْتَلِمُ غَیْرَ الرُّکْنَیْنِ الْیَمَانِیَّیْنِ۔'' [4]

''میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو یمانی رکنوں کے سوا کسی اور حصے کو چھوتے نہیں دیکھا۔''

د: امام بخاری نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا:

[2] متفق علیہ: صحیح البخاري، کتاب الحج، باب استلام الحجر الأسود…، جزء من رقم الحدیث ۱۶۰۶، ۳/۴۷۱؛ وصحیح مسلم، کتاب الحج، باب استحباب استلام الرکنین الیمانیین في الطواف دون الرکنین الآخرین، رقم الحدیث۲۴۵۔ (۱۲۶۸) ، ۲/۹۲۴۔ الفاظِ حدیث صحیح البخاری کے ہیں۔

[3] یعنی حجر اسود اور رکن یمانی۔

[4] صحیح مسلم، کتاب الحج، باب استحباب استلام الرکنین الیمانیین…، رقم الحدیث ۲۴۷۔ (۱۲۶۹) ، ۲/۹۲۵۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت