فهرس الكتاب

الصفحة 182 من 394

''کَانَتْ عَائِشَۃُ رضی اللّٰه عنہا تَطُوْفُ حَجْرَۃً مِنَ الرِّجَالِ، لَا تُخَالِطُہُمْ۔

فَقَالَتْ امْرَأَۃٌ: ''اِنْطَلِقِيْ، نَسْتَلِمْ یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ!''

قَالَتْ: ''اِنْطَلِقِيْ عَنْکِ۔''

وَأَبَتْ۔'' [1]

''عائشہ رضی اللہ عنہا مردوں سے ہٹ کر الگ تھلگ طواف کیا کرتی تھیں۔

ایک عورت نے کہا: ''اے اُمّ المومنین! چلئے ہم (بھی حجر اسود کو) چھوئیں۔''

انہوں نے فرمایا: ''تو ہی چلی جا۔''

اور (خود جانے سے) انکار کیا۔''

پانچ علماء کے اقوال:

ا: امام ابن منذر لکھتے ہیں:

''وَأَجْمَعُوْا عَلٰی أَنَّ الطَّوَافَ یُجْزِیئُ مِنْ وَرَائِ السَّقَایَۃِ۔'' [2]

[ان (یعنی علمائے امت) کا اس بات پر اجماع ہے، کہ زمزم پلانے کی جگہ کے پیچھے سے کیا ہوا طواف کفایت کرتا ہے۔]

ب: امام ابن تیمیہ رقم طراز ہیں:

''وَیَجُوْزُ أَنْ یَطُوْفَ مِنْ وَرَائِ قُبَّۃِ زَمْزَمَ وَمَا وَرَائَہَا مِنَ السَّقَائِفِ الْمُتَّصِلَۃِ بِحِیْطَانِ الْمَسْجِدِ۔ وَأَمَا إِذَا أَمْکَنَ

[2] ''الإجماع'' ص ۲۰، منقول از ہامش أحکام مناسک الحج والعمرۃ للشیخ علی آل سنان، ص ۱۲۵۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت