فهرس الكتاب

الصفحة 186 من 394

ائمہ کا اس بات پر اتفاق ہے، کہ اس (یعنی طواف) میں کوئی (مخصوص) ذکر واجب نہیں۔''

ب: شیخ البانی قلم بند کرتے ہیں:

''وَلَیْسَ لِلطَّوَافِ ذِکْرٌ خَاصٌ، فَلَہُ أَنْ یَقْرَأَ مِنَ الْقُرْآنِ أَوِ الذِّکْرِ مَا شَائَ۔'' [1]

''طواف کے لیے مخصوص ذکر نہیں۔ قرآن میں سے، جو چاہے پڑھے اور ذکر میں سے، جو چاہے کرے۔''

سعی میں دعا کے متعلق شیخ البانی تحریر کرتے ہیں:

''وَإِنْ دَعَا فِيْ السَّعْيِ بِقَوْلِہٖ: [رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ إِنَّکَ أَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَکْرَمُ۔] فَلَا بَأْسَ لِثُبُوْتِہِ عَنْ جَمْعٍ مِنَ السَّلَفِ۔'' [2]

''اگر سعی میں ان الفاظ [رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ إِنَّکَ أَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَکْرَمُ] [3] کے ساتھ دعا کرے تو کوئی حرج نہیں، کیونکہ سلف میں سے ایک جماعت سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔'' [4]

ج: شیخ ابن باز لکھتے ہیں:

''اور نہ اس طواف (یعنی طواف قدوم) اور اس سعی میں، نہ اس کے علاوہ

[2] مناسک الحج والعمرۃ ص ۲۷۔

[3] [ترجمہ: میرے ربٍ معاف فرما دیجیے اور رحم فرمائیے۔ بے شک آپ ہی سب سے زیادہ عزت والے اور سب سے زیادہ بزرگی والے ہیں۔]

[4] ملاحظہ ہو: مصنف ابن ابي شیبۃ، کتاب الحج، باب ما یقول الرجل في المسعی، ۴/۶۸۔۷۰۔ شیخ البانی لکھتے ہیں، کہ یہ ابن مسعود اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے [صحیح سند] کے ساتھ منقول ہے۔ (ملاحظہ ہو: مناسک الحج والعمرۃ ص ۲۷، حاشیہ ۲) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت