فهرس الكتاب

الصفحة 235 من 394

السُّنَۃِ۔''

''اس نے سچ کہا ہے، بے شک وہ (یعنی حضرات صحابہ) سنت پر (عمل کرتے ہوئے) ظہر اور عصر جمع کرتے تھے۔''

میں [1] نے سالم سے دریافت کیا:

''أَفَعَلَ ذٰلِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم ؟''

''کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا تھا؟''

سالم نے جواب دیا:

''وَہَلْ یَتَّبِعُوْنَ فِيْ ذٰلِکَ إِلَّا سُنَّتَہُ؟'' [2]

''اس بارے میں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے علاوہ اور کس کے طریقے پر چلتے ہیں؟''

دونوں حدیثوں کے حوالے سے چھ باتیں:

ا: عرفات میں مسنون طریقہ یہ ہے، کہ ظہر و عصر کی نمازیں ظہر کے اوّل وقت میں ادا کی جائیں۔

ب: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کے بعد اور عصر سے پہلے والی سنتیں ادا نہ کیں۔

ج: حضراتِ صحابہ سنت پر عمل کرتے ہوئے اس دن ظہر اور عصر کو جمع کرتے۔ امام بخاری نے دوسری حدیث پر درج ذیل عنوان تحریر کیا ہے:

[بَابُ الْجَمْعِ بَیْنَ الصَّلَاتَیْنِ بِعَرَفَۃَ] [3]

[2] صحیح البخاري، کتاب الحج، رقم الحدیث:۱۶۶۲، ۳/۵۱۳۔

[3] المرجع السابق، ۳/۵۱۳۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت