فهرس الكتاب

الصفحة 261 من 394

کے متعلق سوال کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: '' (جو چیز نہیں کی، اب) کرلو اور (ترتیب میں جو خلل آگیا ہے، اس میں) کوئی مضایقہ نہیں۔''

مذکورہ بالا احادیث کے حوالے سے آٹھ باتیں:

ا: پہلی چار روایات میں دس ذوالحجہ کے کاموں میں تقدیم و تاخیر کی درجِ ذیل صورتوں کے متعلق سوال کیا گیا:

۱: رمی سے پہلے طواف افاضہ

۲: قربانی سے پہلے سر مونڈنا

۳: رمی سے پہلے قربانی

۴: رمی سے پہلے سر مونڈنا

۵: سر منڈانے سے پہلے طواف افاضہ

۶: قربانی سے پہلے طواف افاضہ

اور پانچویں روایت میں دس ذوالحجہ کے اعمال میں تقدیم و تاخیر کے متعلق اجمالی طور پر سوال کیا گیا۔

ب: (لَا حَرَجَ) سے مراد:

امام نووی رقم طراز ہیں:

''ظَاہِرُ قَوْلِہِ صلي اللّٰه عليه وسلم: ''لَا حَرَجَ'' أَنَّہُ لَا شَيْئَ عَلَیْکَ مُطْلَقًا۔''

''آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی ''لَا حَرَجَ'' کا واضح طور پر معنی یہ ہے: تیرے ذمے بالکل کچھ نہیں۔''

علامہ قرطبی نے ابن عمرو اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کی حدیثوں کی شرح میں لکھا ہے:

''أَحَادِیْثُ ہٰذَا الْبَابِ تَدُلُّ عَلٰی أَنَّ مَنْ قَدَّمَ شَیْئًا أَوْ أَخَّرَہُ مِنَ الْحَلَاقِ، وَالرَّمْي، وَالنَّحْرِ، وَالطَّوَافِ بِالْبَیْتِ، فَلَا

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت