کی جانب سے قمیص اتار دی۔''
پھر انہوں نے عرض کیا:
''وَلِمَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟''
''اور کیوں اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! [1] ''
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''إِنَّ ہٰذَا یَوْمٌ رُخِّصَ لَکُمْ إِذَا أَنْتُمْ رَمَیْتُمُ الْجَمْرَۃَ أَنْ تَحِلُّوْا-- یَعْنِيْ مِنْ کُلِّ مَا حُرِمْتُمْ مِنْہُ-- إِلَّا النِّسَائَ۔ فَإِذَا أَمْسَیْتُمْ قَبْلَ أَنْ تَطُوْفُوْا ہٰذَا الْبَیْتَ صِرْتُمْ حُرُمًا کَہَیَْئَتِکُمْ قَبْلَ أَنْ تَرْمُوْا الْجَمْرَۃَ حَتَّی تَطُوْفُوْا بِہٖ۔'' [2]
''بے شک تمہیں اس دن (میں) یہ رعایت دی گئی ہے، کہ جب تم رمی جمرہ کرلو، تو تمہارے لیے خواتین کے علاوہ [3] (احرام کی وجہ سے) حرام کردہ ہر چیز حلال ہوگئی۔
پھر تم اگر شام ہونے تک طواف نہ کرو، تو تم اسی طرح محرم بن جاؤ گے، جیسے کہ رمی جمرہ سے پہلے تھے اور یہ کیفیت تمہارے طواف کرنے تک
[2] سنن أبي داود، کتاب المناسک، باب الإفاضۃ في الحج، رقم الحدیث ۱۹۹۷، ۵/۳۳۴۔۳۳۵؛ وصحیح ابن خزیمۃ، کتاب المناسک، رقم الحدیث ۲۹۵۸، ۴/۳۱۲؛ والسنن الکبری، کتاب الحج، باب ما یحلّ بالتحلل الأول من محظرات الإحرام، رقم الحدیث ۹۶۰۱، ۵/۲۲۳۔ الفاظِ حدیث سنن ابی داود کے ہیں۔ امام ابن القیم نے سنن أبي داؤد کی حدیث کو [محفوظ] اور شیخ البانی نے اسے [صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: تہذیب السنن ۵/۳۳۵؛ ومناسک الحج والعمرۃ ص ۳۲) صحیح ابن خزیمہ کی حدیث کو شیخ البانی نے [حسن صحیح] کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: ہامش صحیح ابن خزیمۃ ۴/۳۱۲) ۔
[3] یعنی ازدواجی تعلقات کے علاوہ۔