انہوں نے جواب دیا:
''پھر میں وہی کروں گا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} [1]
''پس میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں: میں نے اپنے پر عمرہ واجب کرلیا ہے۔''
پھر انہوں نے عمرے کے لیے تلبیہ پکارا، پھر جب وہ بیداء (نامی جگہ) پہنچے، تو انہوں نے حج اور عمرے کے لیے تلبیہ پکارا اور فرمایا: ''حج اور عمرے کا معاملہ تو ایک جیسا ہی ہے۔''
''ثُمَّ اشْتَرَی الْہَدْيَ مِنْ قُدَیْدٍ، ثُمَّ قَدِمَ فَطَافَ لَہُمَا طَوَافًا وَاحِدًا، فَلَمْ یَحِلَّ حَتَّی یَحِلَّ مِنْہُمَا جِمِیْعًا۔'' [2]
''پھر انہوں نے قدید [3] (نامی جگہ) سے قربانی کا جانور خریدا، پھر (حرم شریف میں) آئے اور دونوں (حج و عمرے) کے لیے طواف کیا، پھر دونوں (یعنی حج و عمرے) سے ایک ساتھ حلال ہوئے۔''
ان روایتوں کے متعلق دو باتیں:
ا: پہلی حدیث میں یہ بات واضح ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے میقات ذوالحلیفہ سے حج کی قربانی کو ہمراہ لیا۔ [4]
[2] صحیح البخاري، کتاب الحج، رقم الحدیث ۱۶۹۳، ۳/۵۴۱۔
[3] (قدید) : مکہ مکرمہ کے قریب ایک جگہ۔ (ملاحظہ ہو: معجم البلدان، ۹۴۵۸۔ قدید، ۴/۳۵۵) ۔
[4] حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: ''اس میں مواقیت اور دور دراز مقامات سے حج کی قربانی ہمراہ لانے کی ترغیب ہے۔ یہ ان سنتوں میں سے ہے، جن کے بارے میں لوگوں کی ایک کثیر تعداد غفلت کا شکار ہے۔'' (فتح الباري ۳/۵۴۰) ۔