فهرس الكتاب

الصفحة 304 من 394

ان حدیثوں کے حوالے سے دو باتیں:

ا: پہلی حدیث سے معلوم ہوتا ہے، کہ قربانی کے جانور پر سوار ہونا جائز ہے۔ امام بخاری نے اس پر درج ذیل عنوان لکھا ہے:

[بَابُ رَکُوْبِ الْبُدْنِ] [1]

[قربانی کے جانور پر سوار ہونے کے بارے میں باب]

ب: دوسری حدیث سے معلوم ہوتا ہے، کہ قربانی کے جانور پر سواری کی صورت میں درج ذیل باتوں کو پیشِ نظر رکھا جائے:

۱: اس پر سوار ہونے کے علاوہ کوئی اور چارہ کار نہ ہو۔

۲: اس پر معروف طریقے سے سواری کی جائے۔ ملا علی قاری [بِالْمَعْرُوْفِ] کی شرح میں لکھتے ہیں:

''بِوَجْہِ لَا یَلْحَقُہَا ضَرَرٌ۔''

''ایسے انداز میں (سواری کرے) کہ اسے ضرر نہ پہنچے۔''

۳: دوسری سواری میسر آنے پر، اس پر سواری کرنا چھوڑ دے۔

امام نووی نے اس حدیث پر درج ذیل عنوان قلم بند کیا ہے:

[بَابُ جَوَازِ رَکُوْبِ الْبَدَنَۃِ الْمُہْدَاۃِ لِمَنِ احْتَاجَ إِلَیْہَا] [2]

[ضرورت مند کے حج کی قربانی کے اونٹ پر سوار ہونے کے جواز کے متعلق باب]

امام ابن خزیمہ نے دوسری حدیث پر درج ذیل عنوان لکھا ہے:

[بَابُ ذِکْرِ الدَّلِیْلِ عَلٰی أَنَّ النَّبِيَّ صلي اللّٰه عليه وسلم إِنَّمَا أَبَاحَ رَکُوْبَ الْبُدْنِ عِنْدَ الْحَاجَۃِ إِلٰی رَکُوْبِہَا عِنْدَ الْإِعْوَازِ مِنْ وَجُوْدِ الظَّہْرِ

[2] صحیح مسلم ۲/۹۶۰۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت