فهرس الكتاب

الصفحة 324 من 394

''وَکُلُّ فِجَاجِ مَکَّۃَ طَرِیْقٌ وَمَنْحَرٌ۔'' [1]

''اور مکہ کے سب راستے (اس میں داخلہ کے لیے) راہ اور جائے قربانی ہیں۔''

ان حدیثوں کے حوالے سے تین باتیں:

ا: پہلی حدیث کی شرح میں ملا علی قاری تحریر کرتے ہیں، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود یہ تھا ، کہ قربانی صرف اسی جگہ کرنا ضروری نہیں، جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی [2] ، بلکہ منیٰ میں جس جگہ کی جائے گی، درست اور معتبر ہوگی۔ [3]

تیسری حدیث کی شرح میں علامہ طیبی رقم طراز ہیں، کہ مکہ کے ہر راستے سے آنا جائز ہے اور مکہ کے گردو پیش میں کسی بھی جگہ قربانی کرنا جائز ہے، کیونکہ وہ سرزمینِ حرم میں سے ہے۔ [4]

ب: امام ابن خزیمہ نے دوسری حدیث پر حسب ِذیل عنوان تحریر کیا ہے:

[بَابُ الرُّخْصَۃِ فِيْ النَّحْرِ وَالذِبْحِ أَیْنَ شَائَ الْمَرْئُ مِنْ مِنَی] [5]

[2] ملاحظہ ہو: مرقاۃ المفاتیح ۵/۴۸۶۔

[3] عون المعبود ۵/۲۸۸۔

[4] ملاحظہ ہو: شرح الطیبی ۶/۱۹۸۹۔

[5] صحیح ابن خزیمۃ ۳/۲۸۳۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت