امْرَأَتِيْ حَاجَّۃً۔''
''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا نام فلاں فلاں غزوہ میں لکھا گیا ہے اور میری بیوی حج کی غرض سے نکلی ہے۔''
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''اِذْہَبْ، فَاحْجُجْ مَعَ امْرَأَتِکَ۔'' [1]
''جاؤ اور اپنی بیوی کے ہمراہ حج کرو۔''
ب: امام دارقطنی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''لَا تَحُجَّنَّ اِمْرَأَۃٌ إِلَّا وَمَعَہَا ذُوْ مَحْرَمٍ ۔'' [2]
''کوئی عورت بھی محرم کے بغیر ہرگز حج نہ کرے۔''
ج: امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''لَا یَحِلُّ لِأَمْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ مَسِیْرَۃَ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ، لَیْسَ مَعَہَا حُرْمَۃٌ۔'' [3]
''اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی خاتون کے لیے
[2] سنن الدارقطني ، کتاب الحج، جزء من رقم الحدیث ۳، ۲/۲۲۲۔۲۲۳۔ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: ''اسے دار قطنی نے روایت کیا ہے اور ابوعوانہ نے [صحیح] قرار دیا ہے۔'' (فتح الباري ۴/۷۶) ۔
[3] متفق علیہ: صحیح البخاري، کتاب تقصیر الصلاۃ، باب في کم یقصر الصلاۃ؟ رقم الحدیث ۱۰۸۸، ۲/۵۶۶؛ وصحیح مسلم، کتاب الحج، باب سفر المرأۃ إلی حج وغیرہ، رقم الحدیث ۴۲۱۔ (۱۳۳۹) ، ۲/۹۷۷۔ الفاظِ حدیث صحیح البخاری کے ہیں۔