فهرس الكتاب

الصفحة 334 من 394

امْرَأَتِيْ حَاجَّۃً۔''

''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا نام فلاں فلاں غزوہ میں لکھا گیا ہے اور میری بیوی حج کی غرض سے نکلی ہے۔''

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''اِذْہَبْ، فَاحْجُجْ مَعَ امْرَأَتِکَ۔'' [1]

''جاؤ اور اپنی بیوی کے ہمراہ حج کرو۔''

ب: امام دارقطنی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''لَا تَحُجَّنَّ اِمْرَأَۃٌ إِلَّا وَمَعَہَا ذُوْ مَحْرَمٍ ۔'' [2]

''کوئی عورت بھی محرم کے بغیر ہرگز حج نہ کرے۔''

ج: امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''لَا یَحِلُّ لِأَمْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ مَسِیْرَۃَ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ، لَیْسَ مَعَہَا حُرْمَۃٌ۔'' [3]

''اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی خاتون کے لیے

[2] سنن الدارقطني ، کتاب الحج، جزء من رقم الحدیث ۳، ۲/۲۲۲۔۲۲۳۔ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: ''اسے دار قطنی نے روایت کیا ہے اور ابوعوانہ نے [صحیح] قرار دیا ہے۔'' (فتح الباري ۴/۷۶) ۔

[3] متفق علیہ: صحیح البخاري، کتاب تقصیر الصلاۃ، باب في کم یقصر الصلاۃ؟ رقم الحدیث ۱۰۸۸، ۲/۵۶۶؛ وصحیح مسلم، کتاب الحج، باب سفر المرأۃ إلی حج وغیرہ، رقم الحدیث ۴۲۱۔ (۱۳۳۹) ، ۲/۹۷۷۔ الفاظِ حدیث صحیح البخاری کے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت