فهرس الكتاب

الصفحة 345 من 394

''حائضہ اور زچہ میقات پہنچنے پر غسل کرکے احرام باندھیں اور بیت (اللہ) کے طواف کے سوا سارے اعمال ادا کریں۔''

ان روایات کے حوالے سے چار باتیں:

ا: حیض اور نفاس عمرے اور حج کے احرام باندھنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں۔ ائمہ حدیث نے ان احادیث پر اپنے تحریر کردہ عنوانوں سے اس بات کو خوب اجاگر کیا ہے۔ ذیل میں ان کے مرقومہ چند عناوین ملاحظہ فرمائیے:

امام نووی نے پہلی حدیث پر درج ذیل عنوان لکھا ہے:

[بَابُ إِحْرَامِ النُّفَسَائِ، وَاسْتِحْبَابِ اغْتِسَالِہَا لِلْإِحْرَامِ، وَکَذَا الْحَائِضِ] [1]

[زچہ اور اسی طرح حائضہ کے احرام اور احرام کے لیے غسل کے مستحب ہونے کے متعلق باب]

امام ابوداؤد تحریر کرتے ہیں:

[بَابُ الْحَائِضِ تُہِلُّ بِالْحَجِّ] [2]

[حائضہ کا حج کا تلبیہ پکارنے کے متعلق باب]

امام نسائی لکھتے ہیں:

[بَابُ إِہْلَالِ النُّفَسَائِ] [3]

[زچہ کا تلبیہ پکارنے کے متعلق باب]

امام ابن ماجہ رقم طراز ہیں:

[بَابُ النُّفَسَائِ وَالْحَائِضِ تُہِلُّ بِالْحَجِّ] [4]

[2] سنن ابي داود ۵/۱۱۵۔

[3] سنن النسائي ۵/۱۶۴۔

[4] سنن ابن ماجہ ۸/۴۹۹۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت