فهرس الكتاب

الصفحة 347 من 394

کیے بغیر پہن سکتی ہیں۔ علمائے امت نے اس بات کو اچھی طرح واضح کیا ہے۔ توفیق الٰہی سے ذیل میں اس بارے میں تفصیل پیش کی جارہی ہیں:

ا: سلے ہوئے کپڑے پہننے کی اجازت:

ا: امام ابن منذر رقم طراز ہیں:

''وَأَجْمَعَ أَہْلُ الْعِلْمِ عَلٰی أَنَّ لِلْمَرْأَۃِ لَبْسَ الْقُمُصِ، وَالدُّرُوْعِ، وَالسَّرَاوِیْلَاتِ، وَالْخُمُرُ، وَالْخِفَافِ۔'' [1]

''اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے، کہ خاتون بڑی قمیصیں، چھوٹی قمیصیں، شلواریں، اوڑھنیاں اور موزے پہن سکتی ہے۔''

۲: علامہ ابوبکر کاسانی نے قلم بند کیا ہے:

''وَلَا بَأْسَ أَنْ تُغَطِّيَ الْمَرْأَۃُ سَائِرَ جَسَدِھَا، وَہِيَ مُحْرِمَۃٌ بِمَا شَائَتْ مِنَ الثِّیَابِ الْمُخِیْطَۃِ وَغَیْرِہَا، وَأَنْ تَلْبَسَ الْخُفَّیْنِ غَیْرَ أَنَّہَا لَا تُغَطِّيْ وَجْہَہَا۔'' [2]

''حالتِ احرام میں خاتون کے لیے، اپنے جسم کو سلے اور بن سلے، جیسے کپڑوں سے وہ چاہے، ڈھانپنے میں کچھ مضایقہ نہیں۔ (اسی طرح) موزے پہننے میں (بھی کوئی حرج نہیں) ، البتہ وہ اپنے چہرے کو نہ ڈھانپے۔'' [3]

۳: شیخ ابن باز لکھتے ہیں:

''عورت بے پردگی اور مردوں سے لباس میں مشابہت کے بغیر جن کپڑوں میں چاہے، احرام باندھے۔'' [4]

[2] بدائع الصنائع ۲/۱۸۶۔

[3] چہرے کے ڈھانپنے کے متعلق ص۳۴۹ ملاحظہ فرمائیے۔

[4] فتاوی الشیخ ابن باز ۱۷/۵۹۔۶۰۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت