فهرس الكتاب

الصفحة 351 من 394

تک) طواف نہیں کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:

''إِذَا أُقِیْمَتْ صلَاَۃُ الصُّبْحِ فَطُوْفِيْ عَلٰی بَعِیْرِکِ وَالنَّاسُ یُصَلُّوْنَ۔''

''جب نمازِ صبح کھڑی ہوجائے اور لوگ نماز پڑھنے میں مشغول ہوجائیں، تو تم اپنی اونٹنی پر طواف کرلینا۔''

''فَفَعَلَتْ ذٰلِکَ، فَلَمْ تُصَلِّ حَتّٰی خَرَجَتْ۔'' [1]

''انہوں نے ایسے ہی کیا اور باہر نکلنے تک (طواف کی) نماز نہیں پڑھی۔''

ایک دوسری روایت میں ہے:

''قَالَتْ: فَطُفْتُ، وَرَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم حِیْنَئِذٍ یُصَلِّي إِلٰی جَنْبِ

الْبَیْتِ، وَہُوَ یَقْرَأُء ب {الطُّوْرِ وَکِتَابٍ مَّسْطُوْرِ} ۔'' [2]

انہوں نے کہا: ''پس میں نے طواف کیا اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت (اللہ) کے پہلو میں نماز میں {الطُّوْرِ وَکِتَابٍ مَسْطُوْرِ} کی

قرأت کر رہے تھے۔''

تنبیہ:… اس حدیث میں یہ بات واضح ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کو نمازِ فجر کی جماعت کے وقت لوگوں کے پیچھے سے طواف کرنے کے بارے میں ارشاد فرمایا اور انہوں نے ایسے ہی کیا۔

[2] متفق علیہ: المرجع السابق، باب المریض یطوف راکبا، جزء من رقم الحدیث ۱۶۳۳، ۳/۴۹۰؛ وصحیح مسلم، کتاب الحج، باب جواز الطواف علی بعیر وغیرہ،…، جزء من رقم الحدیث ۲۵۸۔ (۱۲۷۶) ، ۲/۹۷۲۔ الفاظِ حدیث صحیح مسلم کے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت