فهرس الكتاب

الصفحة 358 من 394

بیت اللہ کا طواف نہ کرے۔ [1] اسی لیے اگر ایسی خاتون نے طوافِ افاضہ نہ کیا ہو، تو

وہ مکہ مکرمہ ہی میں رکے۔ پاک ہونے پر طوافِ افاضہ کرکے اپنے سفر پر روانہ ہو۔ [2]

اگر ایسی خاتون کا مکہ مکرمہ میں ٹھہرنا ممکن نہ ہو، تو وہ کیا کرے؟

شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور ان کے شاگرد رشید امام ابن قیم نے اس سوال کا تفصیلی جواب دیا ہے۔ اس بارے میں امام ابن قیم کی گفتگو کا خلاصہ توفیقِ الٰہی سے ذیل میں پیش کیا جارہا ہے:

امام ابن قیم لکھتے ہیں:

ایسی خاتون کے پیش آمدہ مسئلہ کے حل کی درج ذیل آٹھ شکلیں تصور کی جاسکتی ہیں:

۱: وہ پاک ہونے تک مکہ مکرمہ ہی میں ٹھہرے۔

تبصرہ: جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے، کہ اپنے حالات کی وجہ سے ایسا کرنا اس کے لیے محال ہے۔

۲: طوافِ افاضہ اس سے ساقط ہوجائے۔ وہ اس کے کیے بغیر سفر کرجائے اور اس کا حج درست سمجھا جائے۔

ا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کردہ حدیث میں ہے: ''حیض اور نفاس والی عورتیں طواف کے علاوہ حج کے تمام اعمال کریں۔'' حدیث کی تفصیل اور تخریج اس کتاب کے ص ۳۴۴ میں ملاحظہ فرمائیے۔

ب: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حالت احرام میں مخصوص ایام شروع ہونے پر فرمایا: ''غسل کرنے تک بیت (اللہ) کے طواف کے سوا، جو کام حج کرنے والے کرتے ہیں، تم بھی کرو۔'' (ملاحظہ ہو: صحیح مسلم، کتاب الحج، باب بیان وجوہ إلاحرام…، ۲/۸۷۳) ۔

[2] اس کے دلائل میں سے ایک یہ ہے، کہ اُمّ المومنین صفیہ رضی اللہ عنہا کے حیض کی خبر سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''کیا وہ ہمیں (سفر سے) روکیں گی؟'' آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا تھا، کہ انہوں نے ماہواری کے آغاز سے قبل طوافِ افاضہ نہیں کیا تھا، لیکن جب ان کے پہلے سے طواف کرنے کی اطلاع ملی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کوچ کرنے کا حکم دیا۔ (ملاحظہ ہو: اس کتاب کا ص۳۶۵)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت