فهرس الكتاب

الصفحة 37 من 394

{وَ مَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ} [1]

[اور انہوں (یعنی اللہ تعالیٰ) نے دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔]

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ حقیقت واضح فرمائی ، کہ دین ِاسلام سراپا آسانی ہے، ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''إِنَّ الدِّیْنَ یُسْرٌ۔'' [2]

''بلا شبہ دین سراپا آسانی [3] ہے۔''

ایک دوسری حدیث میں ہے ، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''إِنِّيْ أُرْسِلْتُ بِحَنِیْفِیَّۃِ سَمْحَۃٍ۔'' [4]

''بے شک مجھے (ابراہیم) حنیف۔ علیہ السلام ۔ کے آسان دین کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے۔''

ایک تیسری حدیث میں ہے ، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

'' أَیُّہَا النَّاسُ! إِنَّ دِیْنَ اللّٰہِ فِيْ یُسْرٍ۔''

''اے لوگو! بے شک اللہ تعالیٰ کا دین آسانی میں ہے۔''

۱۔ (الدِّیْن) میں [ال] استغراق کے لیے ہے اور مراد یہ ہے ، کہ دین کے تمام معاملات میں تنگی نہیں رکھی۔ (ملاحظہ ہو: تفسیر القاسمي ۱۲؍۶۸۔۶۹؛ و روح المعانی ۱۷؍۲۰۹) ۔

۲۔ (مِنْ حَرَجٍ) [کوئی تنگی] [حَرَجٍ] اسم نکرہ ہے اور اس سے پہلے [مِنْ] حرف جار ہے اور مراد یہ ہے ، کہ تم پر دین کے تمام معاملات میں کسی بھی قسم کی کوئی تنگی نہیں رکھی۔ واللہ تعالیٰ أعلم۔

[2] صحیح البخاري ،کتاب الإیمان ، جزء من رقم الحدیث ۳۹، ۱؍۹۳، عن ابي ہریرۃ رضی اللّٰه عنہ

[3] ملاحظہ ہو: فتح الباري ۱؍۹۳۔

[4] المسند، جزء من رقم الحدیث ۲۴۸۵۵، ۴۱؍۳۴۹، عن عائشۃ رضی اللّٰه عنہا ۔ شیخ شعیب ارناؤوط اور ان کے رفقاء نے اسے [قوی] اور اس کی [سند کو حسن] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: ہامش المسند ۴۱؍۳۴۹) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت