فهرس الكتاب

الصفحة 60 من 394

'' أَنْتُمْ حُجَّاجٌ۔'' [1] [تم حجاج ہو۔]

سنن ابی داود کی روایت میں ہے ، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''لَکَ حَجٌّ۔'' [2]

[تیرے لیے حج ہے۔]

ج: امام ابن خزیمہ اور امام حاکم نے سعید بن جبیر سے روایت نقل کی ہے ، کہ انہوں نے بیان کیا:

'' ایک شخص نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا:

''میں نے کچھ لوگوں کے ہاں مزدوری کرنے کا معاملہ طے کیا، تو میں نے اپنی مزدوری میں سے کچھ رقم اس شرط پر چھوڑ دی ، کہ وہ حج کے اعمال کرنے کی چھٹی دیتے رہیں گے، کیا ایسے کرنا مجھے کفایت کرے گا؟'' [3]

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا:

''نَعَمْ ، ہٰذَا مِنَ الَّذِیْنَ قَالَ اللّٰہُ: {اُولٰٓئِکَ لَہُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا کَسَبُوْا وَ اللّٰہُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ} [4] ۔ [5]

[2] سنن أبي داود ۵؍۱۰۹۔ شیخ البانی نے اسے [ صحیح] کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن أبي داود ۱؍۳۲۶) ۔

[3] یعنی کیا ایسی صورت میں میرا حج درست ہو گا؟

[4] سورۃ البقرۃ؍ جزء من الآیۃ ۲۰۲۔

[5] صحیح ابن خزیمۃ ، کتاب المناسک ، ۴؍۳۵۱؛ والمستدرک علی الصحیحین، کتاب المناسک ۱؍۴۸۱۔ امام حاکم نے اسے [صحیحین کی شرط پر صحیح] کہا ہے اور حافظ ذہبی نے ان کے ساتھ موافقت کی ہے۔ ڈاکٹر اعظمی نے اس کی [سند کو صحیح] کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۱؍۴۱۸ ؛ والتلخیص ۱؍۴۱۸ ؛ و ہامش صحیح ابن خزیمۃ ۴؍۳۵۱) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت