فهرس الكتاب

الصفحة 68 من 394

تنبیہ:

امام بیہقی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے ، کہ انہوں نے فرمایا:

'' حَلَّتِ الْعُمْرَۃُ فِي السَّنَۃِ کُلِّہَا إِلَّا فِيْ أَرْبَعَۃِ أَیَّامٍ: یَوْمُ عَرَفَۃَ، وَیَوْمُ النَّحْرِ ، وَیَوْمَانِ بَعْدَ ذٰلِکَ۔'' [1]

''چار دنوں کے سوا عمرہ سارے سال میں جائز ہو گیا: یومِ عرفہ [2] ، یوم النحر [3] اور اس کے بعد دو دن [4] ۔''

حضراتِ احناف کے نزدیک پانچ دنوں: یوم عرفہ ، یوم النحر اور تین ایامِ تشریق [5] ، میں عمرہ کرنامکروہ ہے۔ انہوں نے مذکورہ بالا قول سے استدلال کیا ہے۔ [6]

حضراتِ شوافع کے نزدیک ان دنوں میں بھی حجاج کے علاوہ دیگر لوگوں کے لیے عمرہ کرنا درست ہے ۔ ان کی رائے میں یہ قول صرف حجاج کے متعلق ہے۔ امام بیہقی لکھتے ہیں: ''ہمارے نزدیک یہ قول اس شخص کے بارے میں ہے ، جو حج میں مشغول ہو۔ وہ اعمالِ حج مکمل کرنے سے پہلے نہ عمرے کا احرام باندھے اور نہ عمرہ کرے۔'' [7]

امام بیہقی نے ان دنوں میں عمرہ کرنے کی تائید میں درج ذیل دو باتیں بھی ذکر کی ہیں:

[2] یعنی نو ذوالحجہ ، حاجیوں کے عرفات میں ٹھہرنے کا دن۔

[3] قربانی کا دن یعنی دس ذوالحجہ۔

[4] گیارہ اور بارہ ذوالحجہ۔

[5] یعنی گیارہ ، بارہ اور تیرہ ذوالحجہ کے دن۔

[6] ملاحظہ ہو: بدائع الصنائع ۲؍۲۲۷، البتہ قاضی ابو یوسف کے نزدیک یوم عرفہ میں زوال سے پہلے عمرہ کرنا مکروہ نہیں۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۲؍۲۲۷) ۔

[7] السنن الکبریٰ ۴؍۵۶۵۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت