فهرس الكتاب

الصفحة 72 من 394

ایک دوسری روایت میں ہے: ''سراقہ بن مالک بن جعثم رضی اللہ عنہ نے پوچھا:

''یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَلِعَامِنَا ہٰذَا أَمْ لِأَبَدٍ؟''

''یا رسول اللہ۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔! کیا یہ [1] ہمارے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟''

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

'' لِأَبَدٍ۔'' ''ہمیشہ کے لیے ۔'' [2]

بعض دیگر روایات میں ہے: ''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے (ہاتھ کی انگلیوں) میں داخل کیا اور فرمایا:

'' دَخَلَتِ الْعُمْرَۃُ فِي الْحَجِّ إلیٰ یَوْمِ القِیَامَۃِ۔'' [3]

''روزِ قیامت تک کے لیے حج میں عمرہ داخل ہو گیا۔''

ایک اور روایت میں ہے:

'' لَا ، بَلْ لِأَبَدٍ أَبَدٍ۔'' ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔'' [4]

''نہیں [5] ، بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے '' (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جواب) تین مرتبہ (دہرایا) ۔

ان روایات کے حوالے سے چار باتیں:

ا: سفرِ حج میں عمرہ کرنے کی اجازت ہے ، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حج ہی کے سفر میں حضراتِ صحابہ کو عمرہ کرنے کا حکم دیا۔

[2] صحیح مسلم، کتاب الحج، باب بیان وجوہ الإحرام، جزء من رقم الحدیث ۱۴۱۔ (۱۲۱۶) ، ۲؍۸۸۴۔

[3] ملاحظہ ہو: حجۃ النبي صلي اللّٰه عليه وسلم کما رواہا جابر رضی اللّٰه عنہ ، ص ۶۱۔۶۲۔

[4] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ص ۶۲۔

[5] یعنی یہ حکم اس سال کے ساتھ مخصوص نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت