فهرس الكتاب

الصفحة 76 من 394

'' أَرَأَیْتَ لَوْ کَانَ عَلیٰ أَبِیْکَ دَیْنٌ أَکُنْتَ قَاضِیَہُ؟''

''تمہارا کیا خیال ہے ، کہ اگر تمہارے والد کے ذمے قرض ہو ، تو تم اسے ادا کرو گے؟''

اس نے عرض کیا: '' ( جی ) ہاں۔''

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

'' حُجَّ عَنْ أَبِیْکَ۔'' [1]

'' اپنے باپ کی طرف سے حج کرو۔''

د: امام بخاری نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے ، کہ بے شک جہینہ (قبیلے) کی ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا:

''إِنَّ أُمِيْ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ ، فَلَمْ تَحُجَّ ، حَتّٰی مَاتَتْ، أَفَأَحُجُّ عَنْہَا؟''

''بے شک میری والدہ نے حج کی نذر مانی تھی، (لیکن) وہ حج کرنے سے پہلے فوت ہو گئیں ،تو کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟''

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''نَعَمْ ، حُجِّيْ عَنْہَا۔ أَرَأَیْتِ لَوْ کَانَ عَلَی أُمِّکِ دَیْنٌ أَکُنْتِ قَاضِیَتِہِ ؟ اُقْضُوْا اللّٰہَ، فَاللّٰہُ أَحَقُّ بِالْوَفَائِ۔'' [2]

[2] صحیح البخاري ، کتاب جزاء الصید، رقم الحدیث ۱۸۵، ۴؍۶۴۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت