کسی کام نہ آسکوں گا۔
اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا جو چاہو! مجھ سے مانگ لو، ( [1] ) میں اللہ تعالیٰ سے تمہارے کسی کام نہ آسکوں گا۔'' ( [2] )
اور سنن ترمذی میں ہے: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''یَا فَاطِمَۃُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ صلی اللّٰه علیہ وسلم ! أَنْقِذْيَ نَفْسَکِ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّيْ لَا أَمْلِکُ لَکِ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا، إِنَّ لَکِ رَحِمًا سَأَبُلُّہَا بِبَلَالِہَا۔'' ( [3] )
[''اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنی جان کو (دوزخ کی) آگ سے بچاؤ، پس یقینا میں تمہارے لیے ضرر و نفع کا مالک نہیں۔ یقینا تمہارے ساتھ قرابت ہے اور میں صلہ رحمی کرتا رہوں گا۔'']
علامہ قرطبی حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
''لَا أَقْدِرُ عَلٰی دَفْعِ عَذَابِہِ عَنْ أَحَدٍ، وَلَا عَلٰی جَلْبِ ثَوَابِہِ لِأَحَدٍ، فَلَا یَنْفَعُ الْقُرْبُ فِيْ الْأَنْسَابِ مَعَ الْبُعْدِ فِيْ
[2] متفق علیہ: صحیح البخاري، کتاب التفسیر، باب {وَأَنْذِْر عَشِیْرتَکَ الْاَقْرَبِیْن} ، رقم الحدیث ۴۷۷۱، ۸/۵۰۱ ؛ وصحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب في قولہ تعالی: {وأنذر عشیرتک الأقربین} ، رقم الحدیث ۳۵۱۔ (۲۰۶) ، ۱/۱۹۲۔۱۹۳۔ الفاظِ حدیث صحیح مسلم کے ہیں۔
[3] جامع الترمذي، أبواب تفسیر القرآن، سورۃ الشعراء، جزء من رقم الحدیث ۳۴۰۱، ۹/۳۰۔۳۱۔ امام ترمذی نے اسے [حسن] اور شیخ البانی نے [صحیح] کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۹/۳۱؛ وصحیح سنن الترمذي ۳/۸۶) ۔