فهرس الكتاب

الصفحة 112 من 170

انہوں نے عرض کیا: ''کیوں نہیں۔''

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''فَإِنِّيْ أُحِبُّ عَائِشَۃَ رضی اللّٰه عنہا فَأَحِبَّھَا۔'' ( [1] )

[''پس میں یقینا عائشہ سے محبت کرتا ہوں، سو تم بھی اس سے محبت کرو۔'']

فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا:

''لَا أَقُوْلُ لِعَائِشَۃَ شَیْئًا یُؤْذِیْھَا أَبَدًا''

[''میں کبھی بھی عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایسی بات نہ کہوں گی، جو ان کے لیے باعثِ اذیّت ہوگی۔'']

قصہ سے معلوم ہونے والی پانچ باتیں:

۱: عالی مقام لوگوں میں بھی بسا اوقات ناخوش گوار صورت پیدا ہوسکتی ہے۔

۲: احتساب کرنے سے پیشتر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سببِ احتساب کے متعلق تسلّی کرلینا۔

۳: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا احتساب میں اسلوب عاطفی ( [2] ) استعمال فرمانا اور اس مقام پر اس جیسا موثر اور پُر زور کوئی اور اسلوب نہ تھا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

۴: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حق گوئی، کہ اپنی کہی ہوئی بات سے انکار نہ کیا۔

۵: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مثالی فرمانبرداری، کہ قابلِ اعتراض بات کہنے سے ہمیشہ دور رہنے کے عزم کا فوری اعلان۔

[2] ایسا اسلوب ، کہ اس میں مخاطب کے جذبات کو اُبھارا جائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت