دعوت شیطان کی دعوت سے پہلے ہو۔ ( [1] )
اس سلسلے میں ذیل میں تین روایات ملاحظہ فرمائیے:
ا: امام نسائی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا:
''عَقَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ رضی اللّٰه عنہما بِکَبْشَیْنِ کَبْشَیْنِ۔'' ( [2] )
[''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے دو دو مینڈھوں کے ساتھ عقیقہ کیا۔'']
۲: امام ابن حبان اور امام حاکم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا:
''عَقَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَنْ حَسَنٍ وَحُسَیْنٍ رضی اللّٰه عنہما یَوْمَ السَّابِعِ، وَسَمَّاھُمَا۔'' ( [3] )
['' (ولادت کے) ساتویں دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے عقیقہ کیا اور ان دونوں کے نام رکھے۔'']
[2] سنن النسائي، کتاب العقیقۃ، کم یُعَقُّ عَنِ الْجَارِیۃ؟، ۷/۱۶۶۔ شیخ البانی نے اسے [صحیح] کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن النسائي ۳/۸۸۵) ۔
[3] الإحسان في تقریب صحیح ابن حبان، باب العقیقۃ، ذکر الیوم الذي یُعَقُّ فیہ عن الصَّبِيِّ، جزء من رقم الحدیث ۵۳۱۱، ۱۲/۱۲۷؛ والمستدرک علی الصحیحین، کتاب الذبائح، ۴/۲۳۷۔ امام حاکم نے اس کی [سند کو صحیح] ، حافظ ذہبی نے اس کو [صحیح] اور شیخ ارناؤوط نے صحیح ابن حبان کی [سند کو حسن] کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۴/۲۳۷؛ والتلخیص ۴/۲۳۷؛ وھامش الإحسان ۱۲/۱۲۷) ۔