فهرس الكتاب

الصفحة 114 من 170

[''اسے پھینک دو، کیونکہ یقینا ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں۔'']

چار قابلِ توجہ باتیں:

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احتساب کو اچھی طرح سمجھنے میں ان شاء اللہ العزیزدرج ذیل چار باتوں کا ذکر مفید ہوگا:

۱: نواسے رضی اللہ عنہ کو جھڑکنا:

دورانِ احتساب رحمتِ دو عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیارے نواسے حسن رضی اللہ عنہ کو جھڑکا۔ اس پر درج ذیل دو باتیں دلالت کرتی ہیں:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ''کخ کخ'' جیسا کہ پہلی حدیث میں گزر چکا ہے۔

امام ابن بطال اس کی شرح میں لکھتے ہیں: ''ابو علی بغدادی نے بیان کیا:

''یُقَالَ لِلصَّبِيِّ إِذَا زَجَرُوْہُ عَنِ الشَّيْئِ الَّذِيْ یُرِیْدُ أَکْلَہُ۔'' ( [1] )

[''بچے کو اس کے کسی چیز کے کھانے کے ارادہ پر جھڑکنے کے لیے یہ الفاظ کہے جاتے ہیں۔'']

علامہ قرطبی لکھتے ہیں:

''وَھِيَ کَلِمَۃٌ یُزْجَرُ بِھَا الصِبْیَانُ عَنْ أَخْذِ شَيْئٍ۔'' ( [2] )

[''یہ وہ لفظ ہے، کہ اس کے ساتھ بچوں کو کسی چیز کے پکڑنے پر ڈانٹا جاتاہے۔'']

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا:

''أَمَا شَعَرْتَ أَنَّا لَا نَأْکُلُ الصَّدَقَۃ؟''

[2] المفہم ۳/۱۲۳؛ نیز ملاحظہ ہو: ریاض الصالحین ص ۱۶۱؛ وفتح الباري ۳/۳۵۵۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت