اولاد اور ان کی اولاد کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعائیں فرماتے تھے۔ درجِ ذیل پانچ مثالوں سے اس کی وضاحت ہوتی ہے:
اس بارے میں دو روایات ملاحظہ فرمائیے:
۱: حضراتِ ائمہ ابن سعد، ابن السُّنِّی ، طبرانی اور بزّار نے حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ، کہ جب [حضرت علی رضی اللہ عنہ کی] شبِ زفاف تھی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( [1] ) :
'' لَا تُحْدِثْ شَیْئًا حَتّٰی تَلْقَانِيْ۔''
[''میرے آنے تک کچھ نہ کرنا۔'']
انہوں نے بیان کیا: ''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (تشریف لانے کے بعد) ایک برتن منگوایا اور اس میں وضو فرمایا ، پھر اس (برتن میں موجود پانی) کو علی رضی اللہ عنہ پر انڈیل دیا ، پھر (دُعا کرتے ہوئے) کہا:
'' اَللّٰھُمَّ بَارِکْ فِیْھِمَا ، وَبَارِکْ عَلَیْھِمَا ، وَبَارِکْ لَھُمَا فِيْ نَسْلِھِمَا۔'' ( [2] )
[''اے اللہ!ان دونوں میں برکت ڈالیے ، اور دونوں پر برکت[نازل] فرمائیے اور ان دونوں کے لیے ان کی نسل میں برکت عطا فرمائیے۔'']
حافظ ابن السُّنی کی روایت میں دُعا کے الفاظ حسب ذیل ہیں:
''اَللّٰھُمَّ بَارِکْ فِیْھِمَا ، وَبَارِکْ عَلَیْھِمَا ، وَبَارِکْ لَھُمَا فِيْ شَمْلِھِمَا۔'' ( [3] )
[2] الفاظِ حدیث الطبقات الکبریٰ ۸؍۲۱۔ کے ہیں۔حدیث شریف کا ابتدائی حصہ اور تخریج اس کتاب کے صفحات ۶۸۔۶۹ پر ملاحظہ فرمائیے۔
[3] ملاحظہ ہو: کتاب عمل الیوم واللیلۃ ، باب ما یقول للعرس لیلۃ البناء ، جزء من رقم الحدیث ۶۰۷ ، صفحات ۲۱۴۔ ۲۱۵۔